Madarik-ut-Tanzil - Al-Muminoon : 111
اِنِّیْ جَزَیْتُهُمُ الْیَوْمَ بِمَا صَبَرُوْۤا١ۙ اَنَّهُمْ هُمُ الْفَآئِزُوْنَ
اِنِّىْ : بیشک میں جَزَيْتُهُمُ : میں نے جزا دی انہیں الْيَوْمَ : آج بِمَا : اس کے بدلے صَبَرُوْٓا : انہوں نے صبر کیا اَنَّهُمْ : بیشک وہ هُمُ : وہی الْفَآئِزُوْنَ : مراد کو پہنچنے والے
آج میں نے ان کو ان کے صبر کا بدلہ دیا کہ وہ کامیاب ہوگئے
111: اِنِّیْ جَزَیْتُھُمْ الْیَوْمَ بِمَا صَبَرُوْا (میں نے آج ان کو ان کے صبر کے باعث بدلہ دیا) ان کے صبر کے سبب۔ اَنَّھُمْ اس لئے کہ وہ ھُمُ الْفَآئِزُوْنَ (وہی ہیں کامیاب ) نحو : جائز ہے کہ یہ مفعول ثانی ہو۔ تقدیر کلام اس طرح ہوگی جزیتھم الیوم فوزھم میں نے ان کو کامیابی کا بدلہ دیا۔ کیونکہ جزاء کا لفظ دو مفعول کی طرف متعدی ہوتا ہے جیسا دوسرے مقام پر فرمایا : وجزٰٹھم بما صبرواجنۃ ] الانسان : 12[ قراءت : انہم کسرہ کے ساتھ حمزہ، علی نے پڑھا اور جملہ مستانفہ قرار دیا ہے : ای انہم ھم الفائزون الا انتم بیشک وہ وہی کامیاب ہیں نہ کہ تم۔
Top