Madarik-ut-Tanzil - Al-Muminoon : 88
قُلْ مَنْۢ بِیَدِهٖ مَلَكُوْتُ كُلِّ شَیْءٍ وَّ هُوَ یُجِیْرُ وَ لَا یُجَارُ عَلَیْهِ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ
قُلْ : فرما دیں مَنْ : کون بِيَدِهٖ : اس کے ہاتھ میں مَلَكُوْتُ : بادشاہت (اختیار) كُلِّ شَيْءٍ : ہر چیز وَّهُوَ : اور وہ يُجِيْرُ : پناہ دیتا ہے وَلَا يُجَارُ : اور پناہ نہیں دیا جاتا عَلَيْهِ : اس کے خلاف اِنْ : اگر كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ : تم جانتے ہو
کہو اگر تم جانتے ہو تو بتاؤ کہ وہ کون ہے جس کے ہاتھ میں ہر چیز کی بادشاہی ہے اور وہ پناہ دیتا ہے اور اسکے مقابل کوئی کسی کو پناہ نہیں دے سکتا ؟
88: قُلْ مَنْ بِیَدِہٖ مَلَکُوْتُ کُلِّ شَیْئٍ (کہہ دیں کہ کس کے ہاتھ میں ہر چیز کی بادشاہی ہے) ملکوت، الملک ایک معنی میں ہیں۔ وائو ؔ اور تاء ؔ مبالغہ کیلئے ہیں جو اس کی بادشاہت کی عظمت پر دلالت کرتے ہیں۔ وَّھُوَ یُجِیْرُ وَلَا یُجَارُ عَلَیْہِ اِنْ کُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ (اور وہی پناہ دیتا ہے اور اس کے مقابلہ میں کسی کو پناہ نہیں دی جاسکتی۔ اگر تم جانتے ہو تو بتائو) عرب کا محاورہ ہے : اجرت فلا نًا علی فلان۔ جب اس سے بچانے کیلئے تم اس کی فریاد رسی کرو اور اس کا دفاع کرو۔ مطلب یہ ہے وہ جس کی چاہتا ہے فریاد رسی کرتا ہے اور جس سے چاہتا ہے حفاظت کرتا ہے اور کوئی اس کے ضرر سے بچانے کیلئے اس کے خلاف پناہ نہیں دے سکتا۔
Top