Ruh-ul-Quran - Al-Muminoon : 95
وَ اِنَّا عَلٰۤى اَنْ نُّرِیَكَ مَا نَعِدُهُمْ لَقٰدِرُوْنَ
وَاِنَّا : اور بیشک ہم عَلٰٓي : پر اَنْ نُّرِيَكَ : کہ ہم تمہیں دکھا دیں مَا نَعِدُهُمْ : جو ہم وعدہ کر رہے ہیں ان سے لَقٰدِرُوْنَ : البتہ قادر ہیں
بیشک ہم اس بات پر قادر ہیں کہ جس عذاب سے ہم ان کو ڈرا رہے ہیں وہ تم کو دکھا دیں
وَاِنَّا عَلٰٓی اَنْ نُّرِیَکَ مَانَعِدُھُمْ لَقٰدِرُوْنَ ۔ (المومنون : 95) (بیشک ہم اس بات پر قادر ہیں کہ جس عذاب سے ہم ان کو ڈرا رہے ہیں وہ تم کو دکھا دیں۔ ) اللہ تعالیٰ کا ارادہ حتمی ہے گزشتہ آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ کے رسول ﷺ اور مسلمانوں کے لیے جس غلبہ و نصرت کی طرف اشارہ کیا گیا ہے اور دشمنانِ دین کی تباہی اور پامالی کی جو خبر دی گئی ہے اس وقت کے حالات (جب یہ آیات نازل ہورہی تھیں) کو دیکھ کر نہایت مستبعداز عقل معلوم ہوتی تھی کیونکہ مخالفین اور معاندین کی چیرہ دستیاں روز بروز بڑھتی جارہی تھیں۔ مسلمان اس صورتحال سے اس قدر پریشان تھے کہ آئے دن ہجرت کرنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہورہا تھا۔ ایسے حالات میں یہ باور کرنا آسان نہ تھا کہ مسلمانوں کے غلبے کے دن قریب آپہنچے ہیں اور اس تاریکی سے وہ سحر طلوع ہونے والی ہے جو نوع انسانی کے لیے سرافرازیوں کی نوید بن کر آئے گی۔ اس لیے پروردگار نے اپنی قدرت کے حوالے سے آنحضرت ﷺ کو اطمینان دلایا ہے کہ حالات میں یہ صالح تبدیلی بہت دنوں کی بات نہیں حالات کچھ بھی ہوں ہم ہر طرح کے حالات کو تبدیل کرنے پر قادر ہیں۔ ممکن ہے اس دعا میں ہجرت کی طرف بھی اشارہ ہو کیونکہ جب اللہ تعالیٰ اپنے پیغمبر کو ہجرت کا حکم دیتے ہیں تو ایسی ہی دعائیں انھیں تلقین کی جاتی ہیں۔
Top