Madarik-ut-Tanzil - Al-Muminoon : 96
اِدْفَعْ بِالَّتِیْ هِیَ اَحْسَنُ السَّیِّئَةَ١ؕ نَحْنُ اَعْلَمُ بِمَا یَصِفُوْنَ
اِدْفَعْ : دفع کرو بِالَّتِيْ : اس سے جو هِىَ : وہ اَحْسَنُ : سب سے اچھی بھلائی السَّيِّئَةَ : برائی نَحْنُ : ہم اَعْلَمُ : خوب جانتے ہیں بِمَا : اس کو جو يَصِفُوْنَ : وہ بیان کرتے ہیں
اور بری بات کے جواب میں ایسی بات کہو جو نہایت اچھی ہو اور یہ جو کچھ بیان کرتے ہیں ہمیں خوب معلوم ہے
درگزر و احسان سے کام لیں : 96: اِدْفعْ بِالَّتِیْ (آپ ان کی برائی کا دفعیہ ایسی خصلت سے کردیا کریں) ھِیَ اَحْسَنُ السَّیِّئَۃَ (جو کہ بہت ہی خوب ہو) یہ انداز بالحسنۃ السیئۃ کہنے کی بنسبت زیادہ بلیغ اور اوقع فی القلب ہے اس لئے کہ اس میں اسم تفصیل ہے۔ گویا اس طرح فرمایا ادفع بالحسنی السیئۃ مگر اس انسانی عبارت کی اس کے مقابلہ میں کیا حیثیت ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ان کی زیادیتوں کے مقابلہ میں درگزر اور احسان سے حتی الا مکان کام لیا جائے۔ قول ابن عباس ؓ کہ احسنؔ لا الٰہ الا اللہ ہے اور السیئہؔ شرک ہے یا سلام میں فحش انداز یا موعظہ کو غلط انداز سے کرنا۔ نمبر 2۔ یہ آیت قتال سے منسوخ ہے۔ نمبر 3۔ محکم آیت ہے۔ مدارات کا تو اس وقت تک حکم ہے جب تک اس سے دین میں نقصان نہ ہوتا ہو۔ نَحْنُ اَعْلَمُ بِمَا یَصِفُوْنَ (ہم بخوبی ان باتوں سے واقف ہیں جو وہ بیان کرتے ہیں) شرکیات وغیرہ یا آپ کے متعلق طعن وتشنیع پس ہم ان کو خود سزا دیں گے۔
Top