Madarik-ut-Tanzil - Ash-Shura : 19
اَللّٰهُ لَطِیْفٌۢ بِعِبَادِهٖ یَرْزُقُ مَنْ یَّشَآءُ١ۚ وَ هُوَ الْقَوِیُّ الْعَزِیْزُ۠   ۧ
اَللّٰهُ : اللہ تعالیٰ لَطِيْفٌۢ بِعِبَادِهٖ : مہربان ہے اپنے بندوں پر يَرْزُقُ : رزق دیتا ہے مَنْ يَّشَآءُ : جس کو چاہتا ہے وَهُوَ الْقَوِيُّ : اور وہ قوت والا ہے الْعَزِيْزُ : غلبے والا ہے
خدا اپنے بندوں پر مہربان ہے وہ جس کو چاہتا ہے رزق دیتا ہے اور وہ زور والا (اور) زبردست ہے
رزق مصلحت سے : 19: اَللّٰہُ لَطِیْفٌم بِعِبَادِہٖ (اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر مہربان ہے) وہ بڑے لطیف انداز سے اپنے بندوں کو منافع پہنچاتا اور بلائوں کو ان سے ہٹاتا ہے۔ یا ان پر بڑا مہربان ہے اس کی مہربانی تمام کو پہنچنے والی ہے۔ ایک قول یہ ہے : کہ اس کا علم غوامض سے بھی لطیف تر ہے۔ اور اس کا حلم جرائم سے وسیع تر ہے۔ یا وہ مناقب کو پھیلاتا اور گناہوں کو چھپاتا ہے۔ یا وہ اس کو معاف کرنے والا ہے جو لغزشوں کا مرتکب ہے۔ یا وہ بندے کو کفایت سے بڑھ کردیتا ہے اور طاقت سے کم تر طاعت کا ذمہ دار بناتا ہے۔ قولِ جنید (رح) ہے اولیاء پر لطف و کرم کیا تو ان میں پہچان آگئی اگر وہ اپنے اعداء پر بھی نگاہ لطف ڈال دیتا وہ اس کا کبھی انکار نہ کرتے۔ یَرْزُقُ مَنْ یَّشَآ ئُ (وہ جس کو چاہتا ہے رزق دیتا ہے) وہ جس کا رزق چاہتا ہے وسیع کردیتا ہے جب وہ اس کی مصلحت اس میں دیکھتا ہے۔ ارشاد ِنبوت : میرے کچھ مومن بندے ایسے ہیں۔ جن کا ایمان مالداری سے ہی درست رہ سکتا ہے۔ اگر میں ان کو فقیر بنا دوں تو وہ فقر ان کے ایمان کو خراب کر دے۔ (رواہ الدیلمی فی مسند الفردوس۔ 8098) وَھُوَ الْقَوِیُّ (اور وہ قوت والا ہے) ہر چیز پر غالب زبردست قدرت والا۔ الْعَزِیْزُ (وہ زبردست ہے) ایسا محفوظ کہ مغلوب نہیں ہوسکتا۔
Top