Madarik-ut-Tanzil - Ash-Shura : 25
وَ هُوَ الَّذِیْ یَقْبَلُ التَّوْبَةَ عَنْ عِبَادِهٖ وَ یَعْفُوْا عَنِ السَّیِّاٰتِ وَ یَعْلَمُ مَا تَفْعَلُوْنَۙ
وَهُوَ الَّذِيْ : اور وہ اللہ وہ ذات ہے يَقْبَلُ : جو قبول کرتا ہے التَّوْبَةَ : توبہ کو عَنْ عِبَادِهٖ : اپنے بندوں سے وَيَعْفُوْا : اور درگزر کرتا ہے عَنِ السَّيِّاٰتِ : برائیوں سے وَيَعْلَمُ مَا : اور وہ جانتا ہے جو تَفْعَلُوْنَ : تم کرتے ہو
اور وہی تو ہے جو اپنے بندوں کی توبہ قبول کرتا ہے اور (ان کے) قصور معاف فرماتا ہے اور جو تم کرتے ہو (سب) جانتا ہے
25: وَھُوَ الَّذِیْ یَقْبَلُ التَّوْبَۃَ عَنْ عِبَادِہٖ (اور وہ ایسا ہے کہ اپنے بندوں کی توبہ قبول کرتا ہے) عرب کہتے ہیں قبلت منہ الشیٔ جبکہ وہ اس سے لے اور سب سے پہلے لے۔ کہتے ہیں : قبلتہ عنہ یعنی میں نے اس سے اعراض کیا اور جدائی اختیار کی۔ التوبۃؔ برائی اور خلل واجب سے ان پر اظہار ندامت کرتے ہوے لوٹنا اور آئندہ نہ کرنے کا عزم کرنا، اور اگر کسی بندے کا حق ہو تو اس کے طریقے پر پڑتال میں بھی کوئی حرج نہیں۔ قولِ علی ؓ : التوبہ کا لفظ چھ معنوں میں استعمال ہوتا ہے : فرائض کے ضائع کرنے پر پشیمانی۔ فرائض کو دوبارہ ادا کرنا۔ حقوق لوٹا کر دے دینا۔ جس طرح نفس کو گناہوں میں گھلایا ہو اسی طرح نفس کو طاعت میں پگھلانا۔ جس طرح پہلے نفس کو گناہوں کی لذت چکھائی ہو اسی طرح نفس کو طاعت کی تلخی چکھانا۔ 1 جیسے پہلے ہنستا رہا تھا۔ اسی طرح اب رونا۔ قول سِرّی سقطی : گناہوں کے چھوڑنے کا سچا ارادہ، علام الغیوب کی طرف دل سے رجوع کرنا۔ دیگر کا قول یہ ہے : جب گناہ کا تذکرہ ہو تو اس کی حلاوت کا کوئی اثر دل میں نہ ہو۔ قولِ سہل : مذموم حالات سے محمود حالات کی طرف منتقل ہونا۔ قولِ جنید : غیر اللہ سے اعراض کرے۔ وَ یَعْفُوْا عَنِ السَّیِّاٰتِ ( اور تمام گناہ معاف فرما دیتا ہے) سیِّئات سے مراد شرک سے کم گناہ وہ جس کو چاہتا ہے بلاتوبہ معاف کردیتا ہے۔ وَیَعْلَمُ مَا تَفْعَلُوْنَ (اور وہ جانتا ہے جو تم کرتے ہو) قراءت : ابوبکر کے علاوہ تاء کے ساتھ یعنی توبہ اور معصیت میں سے۔ اس پر وقف نہیں اس پر عطف کی وجہ اور اتصال معنی کی وجہ سے۔
Top