Madarik-ut-Tanzil - Ash-Shura : 27
وَ لَوْ بَسَطَ اللّٰهُ الرِّزْقَ لِعِبَادِهٖ لَبَغَوْا فِی الْاَرْضِ وَ لٰكِنْ یُّنَزِّلُ بِقَدَرٍ مَّا یَشَآءُ١ؕ اِنَّهٗ بِعِبَادِهٖ خَبِیْرٌۢ بَصِیْرٌ
وَلَوْ : اور اگر بَسَطَ اللّٰهُ : کھول دے اللہ الرِّزْقَ : رزق کو لِعِبَادِهٖ : اپنے بندوں کے لیے لَبَغَوْا فِي الْاَرْضِ : البتہ وہ بغاوت کردیں زمین میں وَلٰكِنْ : لیکن يُّنَزِّلُ : اتارتا ہے بِقَدَرٍ : ساتھ اندازے کے مَّا يَشَآءُ : جو وہ چاہتا ہے ۭ اِنَّهٗ بِعِبَادِهٖ : بیشک وہ اپنے بندوں کے ساتھ خَبِيْرٌۢ : خبر رکھنے والا ہے بَصِيْرٌ : دیکھنے والا ہے
اور اگر خدا اپنے بندوں کے لئے رزق میں فراخی کردیتا تو زمین میں فساد کرنے لگتے لیکن وہ جس قدر چاہتا ہے اندازے کے ساتھ نازل کرتا ہے بیشک وہ اپنے بندوں کو جانتا اور دیکھتا ہے
مالداری سرکشی کا سبب ہے : 27: وَلَوْبَسَطَ اللّٰہُ الرِّزْقَ لِعِبَادِہٖ ( اور اگر اللہ تعالیٰ اپنے سب بندوں کیلئے روزی فراخ کردیتا) یعنی اگر تمام کو مالدار بنا دیتا لَبَغَوْا فِی الْاَرْضِ (تو وہ دنیا میں شرارت کرنے لگتے) بغواؔ یہ بغی سے ہے جس کا معنی ظلم ہے یعنی ایک دوسرے پر سرکشی کرنا کیونکہ مالداری تکبر اور سرکشی میں ڈال دیتی ہے۔ اس میں عبرت کیلئے فرعون کا حال کافی ہے۔ یا بغی بمعنی تکبر سے ہے ضرور زمین میں بڑائی کرتے وَلٰکِنْ یُّنَزِّلُ (لیکن وہ اتارتا ہے ) قراءت : مکی، ابو عمرو نے یَنْزِلُ تخفیف سے پڑھا ہے۔ بِقَدَرٍ مَّا یَشَآ ئُ (اندازہ سے جتنا چاہتا ہے) عرب کہتے ہیں قدرہ قَدْرًا وقَدَرًا اندازہ کرنا۔ اِنَّہٗ بِعِبَادِہٖ خَبِیْرٌم بَصِیْرٌ (وہ اپنے بندوں کو جاننے والا دیکھنے والا ہے) وہ بندوں کے احوال سے واقف ہے اس لئے بتقاضائے حکمت ان کے لئے اندازہ کرتا ہے پھر فقیر وغنی بناتا ہے۔ اور رزق روکتا اور عطاء کرتا تنگ کرتا اور کھولتا ہے اور اگر وہ تمام کو مالدار بنا دے تو وہ سرکش ہوجائیں اور سب کو فقیر محتاج بنا دے تو ہلاک ہوجائیں۔ باقی بعض سرکشوں پر وسعت رزق ہے اور بعض سرکش تنگ دست ہیں مگر وہ قلیل ہیں۔ فقر کی حالت میں سرکشی بنسبت مالداری کی حالت میں سرکشی سے کم ہے۔ مالداروں کی اغلب اکثریت نافرمان ہے۔
Top