Madarik-ut-Tanzil - Ash-Shura : 3
كَذٰلِكَ یُوْحِیْۤ اِلَیْكَ وَ اِلَى الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِكَ١ۙ اللّٰهُ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ
كَذٰلِكَ : اسی طرح يُوْحِيْٓ اِلَيْكَ : وحی کرتا رہا ہے آپ کی طرف وَاِلَى : اور طرف الَّذِيْنَ : ان لوگوں کے مِنْ قَبْلِكَ : آپ سے قبل اللّٰهُ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ : اللہ تعالیٰ غالب، حکمت والا
خدائے غالب و دانا اسی طرح تمہاری طرف مضامین اور (براہین) بھیجتا ہے جس طرح تم سے پہلے لوگوں کی طرف وحی بھیجتا رہا ہے
تمام کتابوں میں بار بار یہ مضمون اتارے : 3: کَذٰلِکَ یُوْحِیْ اِلَیْکَ (اس وحی کی طرح یا اس کتاب کی طرح جو آپ کی طرف وحی کی گئی ہے۔ وَاِلَی الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِکَ اور ان رسولوں کی طرف جو آپ سے قبل ہوئے۔ اللّٰہُ یعنی اس سورت میں جو مضامین اللہ تعالیٰ نے آپ کی طرف بذریعہ وحی بھیجے ہیں۔ اس جیسے مضامین اللہ تعالیٰ نے دوسری سورتوں میں آپ کی طرف وحی کیے ہیں اور ان لوگوں پر جو آپ سے پہلے ہوئے یعنی ان کے رسولوں کی طرف۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان معانی کو باربار تمام آسمانی کتابوں میں اتارا کیونکہ اس میں بندوں کے لیے شدید تنبیہ اور بڑی مہربانی ہے۔ قول ابن عباس ؓ : جو پیغمبرصاحب کتاب ہوئے ان سب پر حم، عسق کو اتارا۔ قراءت : مکی نے یُوَحٰی کو مفتوح پڑھا اور لفظ اللہ کو مرفوع اس قراءت کے مطابق جس پر یُوحٰی دلالت کررہا ہے۔ گویا کہنے والا کہہ رہا ہے۔ کہ وحی کرنے والا کون ؟ تو جواب دیا گیا۔ اللّٰہُ الْعَزِیْزُ (وہ اپنے زور سے غالب ہیں) الْحَکِیْمُ (اپنے قول و فعل میں درستی پر قائم ہیں)
Top