Madarik-ut-Tanzil - Ash-Shura : 30
وَ مَاۤ اَصَابَكُمْ مِّنْ مُّصِیْبَةٍ فَبِمَا كَسَبَتْ اَیْدِیْكُمْ وَ یَعْفُوْا عَنْ كَثِیْرٍؕ
وَمَآ اَصَابَكُمْ : اور جو بھی پہنچتی ہے تم کو مِّنْ : کوئی مُّصِيْبَةٍ : مصیبت فَبِمَا كَسَبَتْ اَيْدِيْكُمْ : پس بوجہ اس کے جو کمائی کی تمہارے ہاتھوں نے وَيَعْفُوْا : اور وہ درگزر کرتا ہے عَنْ كَثِيْرٍ : بہت سی چیزوں سے
اور جو مصیبت تم پر واقع ہوتی ہے سو تمہارے اپنے فعلوں سے اور وہ بہت سے گناہ تو معاف ہی کردیتا ہے
30: وَمَآ اَصَابَکُمْ مِّنْ مُّصِیْبَۃٍ (اور تم کو جو کچھ مصیبت پہنچتی ہے) غم، دکھ، ناپسند بات فَبِمَا کَسَبَتْ اَیْدِیْکُمْ (وہ تمہارے ہی ہاتھوں کے کئے ہوئے کاموں سے ہے) یعنی وہ اس گناہ کے باعث ہے جو تم نے کیے ہیں تاکہ سزا دی جائے۔ قراءت : مدنی، شامی اور علی نے بما کسبت پڑھا ہے۔ نحو : ما ؔ مبتدا اور بماکسبت اس کی خبر بغیر اس کے کہ اس میں شرط کا معنی پایا جائے اور جنہوں نے فاء ؔ کو قائم رکھا انہوں نے شرط کے معنی کو خبر میں متضمن تسلیم کیا ہے۔ اہل تناسخ کا استدلال : اگر بچوں کی اس حالت سے قبل اور کسی شکل میں حالت نہ ہوتی تو ان کو تکالیف نہ آتیں۔ جواب : آیت اپنے سیاق وسباق سے بتلا رہی ہے کہ یہ مکلفین سے متعلق ہے اور سیاق ملاحظہ ہو ویعفوعن کثیر وہ بہت سے گناہوں کو ان گناہوں میں سے معاف فرماتے ہیں۔ وَیَعْفُوْا عَنْ کَثِیْرٍ (اور وہ بہت سے تو درگزر کردیتا ہے) پس وہ ان پر سزا نہیں دیتے یا بہت سے لوگوں کے گناہ معاف کردیتے ہیں ان کو جلد سزا نہیں دیتے۔ قول ِابن عطاء m : جو شخص نہیں جانتا کہ جو مصائب وفتن اس کو پیش آرہے ہیں یہ اپنے کیے ہوئے اعمال کے باعث ہیں اور جو اس کے آقا نے اس کو معاف کردیئے ہیں وہ اس سے کہیں بڑھ کر ہیں وہ شخص اپنے رب کے احسانات کی زیادہ قدر نہیں کرتا۔ قولِ محمد بن حامد (رح) : بندہ تو ہر گھڑی گناہ کرنے والا ہے۔ طاعات میں اس کی جنایات معاصی کی جنایات سے بڑھ کر ہیں کیونکہ معصیت والی جنایت تو ایک اعتبار سے ہے اور طاعات والا گناہ کئی اعتبار سے گناہ ہے اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو قسم قسم کے مصائب کے ذریعہ جنایات سے پاک کرتا ہے تاکہ قیامت کے دن اس کا بوجھ ہلکا ہو اگر اللہ تعالیٰ کی معافیاں اور رحمتیں نہ ہوں تو یہ پہلے قدم پر ہی ہلاک ہوجائے۔ قول علی ؓ : قرآن مجید میں ایمان والوں کیلئے یہ آیت سب سے زیادہ امید بندھانے والی ہے۔ کیونکہ کریم جب ایک مرتبہ سز ادے دیتا ہے تو دوسری مرتبہ سز انہیں دیتا اور جب معاف کرتا ہے تو پھر دوبارہ ان پر باز پرس نہیں کرتا۔
Top