Madarik-ut-Tanzil - Hud : 51
سَبَّحَ لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ۚ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ
سَبَّحَ : پاکیزگی بیان کرتا ہے لِلّٰهِ : اللہ کی مَا : جو فِي السَّمٰوٰتِ : آسمانوں میں وَمَا فِي الْاَرْضِ ۚ : اور جو زمین میں وَهُوَ : اور وہ الْعَزِيْزُ : غالب الْحَكِيْمُ : حکمت والا
جو چیزیں آسمانوں میں ہیں اور جو چیزیں زمین میں ہیں (سب) خدا کی تسبیح کرتی ہیں اور وہ غالب حکمت والا ہے
غزوئہ بنی نضیر : 1 : روایت میں ہے یہ تمام سورت مکمل طور پر بنی نضیر کے متعلق نازل ہوئی۔ اور اس کا واقعہ اس طرح ہے۔ کہ نبی اکرم ﷺ نے مدینہ تشریف آوری پر بنونضیر سے صلح کرلی۔ اور شرط یہ قرار پائی کہ وہ نہ ان کی مخالفت کریں گے اور نہ آپ کی حمایت میں کسی سے لڑیں گے۔ جب بدر کے دن غلبہ آیا تو وہ کہنے لگے یہ وہ پیغمبر ہیں جن کی صفت تورات میں موجود ہے۔ اور اگلے سال احد میں شکست سے دوچار ہونا پڑا تو انہوں نے آپ کی نبوت میں شک کیا اور معاہدہ کو توڑ ڈالا۔ چناچہ کعب بن اشرف چالیس سوار لے کر مکہ پہنچا اور بیت اللہ کے پاس ابوسفیان سے معاہدہ کرلیا۔ آپ ﷺ نے اس غداری پر محمد بن مسلمہ کو حکم دیا۔ انہوں نے کعب بن اشرف کو ایک طریقے سے رات کو قتل کردیا۔ پھر لشکر لے کر بنو نضیر کا محاصرہ کرلیا۔ جو اکیس روز جاری رہا۔ آپ نے ان کے نخلستان کاٹنے کا حکم دیا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں میں رعب ڈالدیا جس کی وجہ سے انہوں نے صلح کا مطالبہ کیا۔ آپ ﷺ نے جلا وطنی کے سوا ہر چیز سے انکار کردیا۔ کہ ہر تین گھر ایک اونٹ کا بوجھ لاد کر سوائے ہتھیاروں کے جو چاہیں اپنا گھریلو سامان لے جائیں۔ چناچہ وہ شام کے علاقہ میں اریحاء اور اذرعات کی طرف جلا وطن ہوگئے۔
Top