بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
Madarik-ut-Tanzil - Al-Mulk : 1
تَبٰرَكَ الَّذِیْ بِیَدِهِ الْمُلْكُ١٘ وَ هُوَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرُۙ
تَبٰرَكَ الَّذِيْ : بہت بابرکت ہے وہ ذات بِيَدِهِ : جس کے ہاتھ میں ہے الْمُلْكُ : ساری بادشاہت وَهُوَ : اور وہ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ : ہر چیز پر قَدِيْرُۨ : قدرت رکھنے والا ہے
وہ (خدا) جس کے ہاتھ میں بادشاہی ہے بڑی برکت والا ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔
1 : تَبٰرَکَ الَّذِیْ بِیَدِہِ الْمُلْکُ وَھُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْ ئٍ قَدِیْرُ ڑ (وہ بڑا عالی شان ہے جس کے قبضہ میں تمام سلطنت ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے) اسمائے سورت : اس سورت کا نام الواقیہ نمبر 2۔ المنجیہ بھی ہے کیونکہ یہ اپنے پڑھنے والے کو عذاب قبر سے بچانے کا ذریعہ ہے۔ روایت مرفوعہ میں ہے، جس نے اس سورت کو ایک رات میں پڑھا اس نے بہت زیادہ اور بہت خوب عمل کیا۔ (رواہ الطبری و ابن مردویہ من حدیث ابن مسعود مرفوعًا) تَبٰرَکَ (بلندو عالی شان ہے ان صفات سے جو مخلوق میں پائی جاتی ہیں) الَّذِیْ بِیَدِہِ الْمُلْکُ یعنی ملک اسی کے تصرف میں ہے اور اس کو ہر موجود پر غلبہ حاصل ہے۔ وہ ملک کا مالک ہے۔ جس کو چاہتا ہے عنایت کرتا اور جس سے چاہتا ہے چھین لیتا ہے۔ وَھُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْ ئٍ قَدِیْرٌ شئی سے مقدورات مراد ہے، گویا شئی مصدر بمعنی اسم مفعول ہے۔ نمبر 2۔ شئی سے انعام و انتقام مراد ہے کہ دونوں پر یکساں قدرت ہے۔ قدیرکامل قدرت والا ہے۔
Top