Madarik-ut-Tanzil - Al-Mulk : 16
ءَاَمِنْتُمْ مَّنْ فِی السَّمَآءِ اَنْ یَّخْسِفَ بِكُمُ الْاَرْضَ فَاِذَا هِیَ تَمُوْرُۙ
ءَاَمِنْتُمْ : کیا بےخوف ہوگئے تم مَّنْ : اس سے جو فِي السَّمَآءِ : آسمان میں ہے اَنْ يَّخْسِفَ : کہ دھنسا دے بِكُمُ الْاَرْضَ : تم کو زمین میں فَاِذَا هِيَ : تو اچانک وہ تَمُوْرُ : لرزنے لگے۔ پھٹ جائے
کیا تم اس جو آسمان میں ہے بےخوف ہو کہ تم کو زمین میں دہنسا دے اور وہ اس وقت حرکت کرنے لگے
16 : ئَ اَمِنْتُمْ مَّنْ فِی السَّمَآئِ ( کیا تم لوگ اس سے بیخوف ہوگئے ہو جو کہ آسمان میں ہے) یعنی وہ ذات جس کی بادشاہی آسمان پر ہے۔ کیونکہ آسمان مسکن ملائکہ ہے اور اسی سے اللہ تعالیٰ کے فیصلے ‘ کتب، اوامرو نواہی نازل ہوتے ہیں۔ پس گویا اس طرح فرمایا اء منتم خالق السماء و ملکہ کیا تم آسمان کے خالق و بادشاہ سے بےخوف ہوگئے ہو اور دوسری بات یہ ہے کہ ان کا اعتقاد یہ تھا کہ وہ آسمان میں ہے اور رحمت و عذاب اسی کی طرف سے اترتے ہیں۔ پس ان کو کہا گیا انہی کے اعتقاد کو سامنے رکھ کر کہ کیا تم اس ذات سے بےخوف ہوگئے ہو جس کے متعلق تمہارا گمان یہ ہے کہ وہ آسمان میں ہے حالانکہ اس کی ذات تو مکان سے بلند وبالا ہے۔ اَنْ یَّخْسِفَ بِکُمُ الْاَرْضَ (کہ وہ تم کو زمین میں دھنسا دے) جیساقارون کو دھنسا دیافَاِذَاھِیَ تَمُوْرُ (پھر وہ زمین تھرتھرانے لگے) اضطراب و حرکت میں آجائے۔
Top