Madarik-ut-Tanzil - Al-Mulk : 21
اَمَّنْ هٰذَا الَّذِیْ یَرْزُقُكُمْ اِنْ اَمْسَكَ رِزْقَهٗ١ۚ بَلْ لَّجُّوْا فِیْ عُتُوٍّ وَّ نُفُوْرٍ
اَمَّنْ هٰذَا الَّذِيْ : یا کون ہے وہ جو يَرْزُقُكُمْ : رزق دے گا تم کو اِنْ اَمْسَكَ : اگر تھام لیا۔ روک لیا رِزْقَهٗ : اس نے رزق اپنا بَلْ لَّجُّوْا : بلکہ وہ اڑے ہوئے ہیں فِيْ عُتُوٍّ : سرکشی میں وَّنُفُوْرٍ : بھاگنے میں
بھلا اگر وہ اپنا رزق بند کرلے تو کون ہے جو تم کو رزق دے ؟ لیکن یہ سرکشی اور نفرت میں پھنسے ہوئے ہیں
کیا اللہ کے رزق روکنے پر تمہارے معبود رزق دیتے ہیں : 21 : اَمَّنْ ھٰذَا الَّذِیْ یَرْزُقُکُمْ اِنْ اَمْسَکَ رِزْقَہٗ (ہاں وہ کون ہے جو تم کو روزی پہنچا دے۔ اگر اللہ تعالیٰ اپنی روزی بند کرے) امن کون ایسا ہے جس کی طرف اشارہ کر کے کہا جائے کہ تم کو یہ رزق دے گا۔ اگر اللہ تعالیٰ نے اپنا رزق روک لیا ؟ یہ تو اس تقدیر پر ہے جب کہ منؔ سے جمیع خلق مراد لی جائے۔ نمبر 2۔ یہ بھی درست ہے کہ اس سے اشارہ ان کے تمام بتوں کی طرف ہو کیونکہ ان کا عقیدہ یہ تھا کہ وہ ان کی مصائب سے حفاظت کرتے ہیں اور ان کو اپنے ان معبودوں کی برکت سے رزق ملتا ہے گویا وہ اصنام مددگار ‘ لشکر اور رازق لشکر ہیں۔ جب انہوں نے اس سے کوئی تاثر نہ لیا اور اس کو قبول نہ کیا تو ان سے اعراض کرتے ہوئے فرمایا۔ بَلْ لَّجُّوْا (بلکہ یہ لوگ جم رہے ہیں) بڑھتے جانا ‘ جمے رہنا۔ فِیْ عُتُوٍّ (سرکشی میں) حق قبول کرنے سے تکبر کرنا۔ وَّ نُفُوْرٍ ( اور نفرت پر) حق سے دور بھاگنے کی وجہ سے کیونکہ حق کو بوجھل خیال کرتے ہوئے اس کی اتباع نہیں کرتے۔ ربط : مؤمنوں اور کافروں کی مثال بیان فرمائی پس فرمایا۔
Top