Madarik-ut-Tanzil - Al-Mulk : 22
اَفَمَنْ یَّمْشِیْ مُكِبًّا عَلٰى وَجْهِهٖۤ اَهْدٰۤى اَمَّنْ یَّمْشِیْ سَوِیًّا عَلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ
اَفَمَنْ يَّمْشِيْ : کیا پھر جو چلتا ہے مُكِبًّا : سرنگوں ہوکر۔ سر جھکا کر عَلٰي وَجْهِهٖٓ : اپنے چہرے پر اَهْدٰٓى : زیادہ ہدایت یافتہ ہے اَمَّنْ يَّمْشِيْ : یا جو چلتا ہے سَوِيًّا : سیدھا عَلٰي صِرَاطٍ مُّسْتَقِيْمٍ : سیدھے راستے پر
بھلا جو شخص چلتا ہوا منہ کے بل گرپڑتا ہے وہ سیدھے راستے پر ہے یا وہ جو سیدھے راستے پر برابر چل رہا ہو
22 : اَفَمَنْ یَّمْشِیْ مُکِبًّا عَلٰی وَجْھِہٖٓ (پس کیا جو شخص منہ کے بل گرتا ہوا چل رہا ہو) یعنی اپنے چہرے کے بل گرنے والا ہو اور ہر گھڑی لڑکھڑائے اور بغیر سمجھے بوجھے راستہ اختیار کرنے والا ہو۔ نحو : مَنؔ کی خبر اھدی ہے۔ اَھْدٰٓی (راہ منزل مقصود پر زیادہ پہنچنے والا ہو) زیادہ راہ پانے والا ہو۔ نحو : اکب یہ کب کا مطاوع آتا ہے کہتے ہیں کببتہٗ فاکبَّ میں نے اس کو اوندھا کیا وہ اوندھا ہوگیا ( گویا اکباب لازم و متعدی ہر دو طرح ہے) اَمَّنْ یَّمْشِیْ سَوِیًّا (یا وہ شخص جو سیدھا چلتا ہے) سویا ؔ درست ‘ سیدھا ‘ پھسلنے گرنے سے محفوظ۔ عَلٰی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ (ایک ہموار سڑک پر چلا جارہا ہو) ایک برابر راستہ پر ہو۔ نحو : من کی خبر اھدیؔ محذوف ہے کیونکہ پہلا اھدی اس پر دلالت کرتا ہے۔ بقول کلبی، مکب سے مراد ابوجہل اور اہدی سے نبی اکرم ﷺ ہیں۔
Top