Madarik-ut-Tanzil - Al-Mulk : 28
قُلْ اَرَءَیْتُمْ اِنْ اَهْلَكَنِیَ اللّٰهُ وَ مَنْ مَّعِیَ اَوْ رَحِمَنَا١ۙ فَمَنْ یُّجِیْرُ الْكٰفِرِیْنَ مِنْ عَذَابٍ اَلِیْمٍ
قُلْ : کہہ دیجئے اَرَءَيْتُمْ : کیا دیکھا تم نے اِنْ اَهْلَكَنِيَ اللّٰهُ : اگر ہلاک کردے مجھ کو اللہ وَمَنْ مَّعِيَ : ار اسے جو میرے ساتھ ہے اَوْ رَحِمَنَا : یا وہ رحم کرے ہم پر فَمَنْ يُّجِيْرُ : تو کون پناہ دے گا الْكٰفِرِيْنَ : کافروں کو مِنْ عَذَابٍ اَلِيْمٍ : دردناک عذاب سے
کہو کہ بھلا دیکھو تو اگر خدا مجھ کو اور میرے ساتھیوں کو ہلاک کر دے یا ہم پر مہربانی کرے تو کون ہے جو کافروں کو دکھ دینے والے عذاب سے پناہ دے
کفار کی دُعائے ہلاکت کا جواب : 28 : قُلْ اَرَئَ یْتُمْ اِنْ اَھْلَکَنِیَ اللّٰہُ (آپ کہہ دیجیے کہ تم یہ بتلائو اگر اللہ تعالیٰ مجھ کو ہلاک کر دے) مجھے موت دے دے جیسا دوسرے مقام پر فرمایا اِنْ امْرَؤٌ ھَلَکَ ] النساء : 176[ وَمَنْ مَّعِیَ (اور میرے ساتھیوں کو جو میرے ساتھ ہیں) اَوْ رَحِمَنَا (یا ہم پر رحمت فرمائے) پس ہماری موت کو مؤخر کر دے۔ فَمَنْ یُّجِیْرُ (تو کون بچائے گا) نجات دے گا۔ الْکٰفِرِیْنَ مِنْ عَذَابٍ اَلِیْمٍ (کافروں کو دردناک عذاب سے) الیم بمعنی مولم ہے۔ کفارِ مکہ رسول اللہ ﷺ اور مسلمانوں کے متعلق ہلاکت کی دعائیں کرتے پس اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ کو ان کا جواب اس طرح دینے کا حکم فرمایا۔ ہم مومن دو اچھائیوں میں سے ایک کے منتظر ہیں خواہ تمہاری تمنا کے مطابق ہم ہلاک ہوجائیں تو جنت میں پہنچ جائیں گے یا اللہ تعالیٰ ہم پر رحمت فرما کر تمہارے خلاف ہماری مدد کرکے تم پر غلبہ دے دیں گے۔ جیسا کہ ہم امیدوار ہیں تو بھی ہم کامیاب پھر تمہارا کیا بنے گا۔ تمہیں اور تمہارے کافروں کو آگ کے عذاب سے کون بچائے گا۔ تمہارے لئے وہ (کفر کی حالت میں تو) آگ یقینی ہے۔
Top