Mafhoom-ul-Quran - Al-Muminoon : 91
مَا اتَّخَذَ اللّٰهُ مِنْ وَّلَدٍ وَّ مَا كَانَ مَعَهٗ مِنْ اِلٰهٍ اِذًا لَّذَهَبَ كُلُّ اِلٰهٍۭ بِمَا خَلَقَ وَ لَعَلَا بَعْضُهُمْ عَلٰى بَعْضٍ١ؕ سُبْحٰنَ اللّٰهِ عَمَّا یَصِفُوْنَۙ
مَا اتَّخَذَ : نہیں بنایا اللّٰهُ : اللہ مِنْ وَّلَدٍ : کسی کو بیٹا وَّمَا كَانَ : اور نہیں ہے مَعَهٗ : اس کے ساتھ مِنْ اِلٰهٍ : کوئی اور معبود اِذًا : اس صورت میں لَّذَهَبَ : لے جاتا كُلُّ : ہر اِلٰهٍ : معبود بِمَا خَلَقَ : جو اس نے پیدا کیا وَلَعَلَا : اور چڑھائی کرتا بَعْضُهُمْ : ان کا ایک عَلٰي بَعْضٍ : دوسرے پر سُبْحٰنَ اللّٰهِ : پاک ہے اللہ عَمَّا : اس سے جو يَصِفُوْنَ : وہ بیان کرتے ہیں
اللہ نے نہ تو کسی کو اپنا بیٹا بنایا ہے اور نہ ہی اس کے ساتھ کوئی اور معبود ہے ‘ ایسا ہو تو ہر معبود اپنی اپنی مخلوقات کو لے کر چل دیتا اور ایک دوسرے پر غالب آجاتا۔ یہ لوگ جو کچھ اللہ کے بارے میں کہتے ہیں اللہ اس سے پاک ہے۔
اللہ وحدہ ‘ لا شریک ہے تشریح : ان آیات میں اللہ کے واحد ہونے اور مکمل طور پر اقتدار کے مالک ہونے کی دلیل دی گئی ہے۔ غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ آسمان و زمین کے اس عظیم الشان کارخانے میں بیشمار اسباب آپس میں ملے ہوئے ہیں جو ایک ہی حاکم کی مرضی اور حکم سے چلتے ہیں۔ اگر دو حاکم ہوے یا زیادہ ہوتے تو یہ اسباب کی مجموعی حرکت ہرگز چل نہ سکتی کیونکہ ہر حاکم اپنی مرضی چلانے کی سوچتا اور یوں اس کارخانے کا بہترین نظام درہم برہم ہوجاتا اور ہم لوگ پانی پھول پھل اور کھانے پینے کی چیزوں سے عاجز آجاتے۔ کیونکہ مختلف حاکموں کے زیر نگرانی نہ سورج وقت پر کام کرتا نہ ہوائیں صحیح رخ سے چلتیں نہ بارش معمول کے مطابق ہوتی غرض کوئی کام بھی درست نہ ہوسکتا۔ بلکہ یہ حاکم صاحبان خود آپس میں ہی لڑتے جھگڑتے رہتے اور ہم انسان یہ بھی فیصلہ نہ کر پاتے کہ کس کے آگے ہاتھ پھیلائیں ‘ کس سے مشکلات دور کرنے کو کہیں ‘ کون ہماری مدد کرے۔ یہ سب کچھ تو صرف اسی وقت ممکن ہے جب عبادت کے لائق اور اقتدار اعلیٰ کا مالک صرف ایک ہی ہو۔ اور اس کام کے لیے یعنی دنیا کا نظام چلانے ہماری حاجات پوری کرنے، ہماری دعائیں سننے اور ہماری مشکلیں آسان کرنے کے لیے کسی معمولی حاکم اعلیٰ کی ضرورت نہیں بلکہ یہ ذمہ داری صرف وہی ایک اکیلا رب ہی کرسکتا ہے۔ جس کا نہ کوئی بیٹا ہے، نہ مدد گار، نہ بیوی ہے اور نہ ہی کوئی حصہ دار۔ بس وہ تو بالکل اکیلا ہے تمام اقتدار اور معبودیت کا درجہ رکھنے والا الہ العلمین وحدہ ‘ لا شریک صرف اللہ ہے۔ ہماری حاجت روائی ‘ مشکل کشائی ‘ حفاظت ‘ امداد ‘ اعانت ‘ خبر گیری ہماری پیدائش اور پھر جسمانی و روحانی نشوونما کا پورا بندوبست یہ سب کوئی آسان کام نہیں بلکہ اس خدائے واحد و بےنیاز کے سوا ان تمام کاموں میں سے کوئی چھوٹے سے چھوٹا کام بھی کوئی بڑی سے بڑی طاقت ہرگز نہیں کرسکتی تو ثابت ہوا کہ معبود برحق صرف وہی اقتدار اعلیٰ رکھنے والا سچا الہ العلمین ہی ہے۔ وہ ظاہر اور پوشیدہ سے پوری طرح واقف ہے۔ ہم انسان تو اتنا بھی علم نہیں رکھتے کہ کل ہمارے ساتھ کیا ہونے والا ہے۔ کب مرجائیں گے اور کہاں موت آئے گی۔ سامان سو برس کا، پل کی خبر نہیں مگر ایمان بالغیب ہی وہ مقام ہے کہ جس سے گزر کر انسان انسان بنتا ہے۔ کیونکہ حیوان تو اس بات کی عقل ہی نہیں رکھتا۔ جبکہ انسان اپنی عقل اور علم کے ذریعہ اس کائنات میں پھیلی ہوئی اللہ کی قدرتوں کو دیکھ کر اس کائنات کے خالق حاکم اور چلانے والے مقتدر اعلیٰ اللہ کی حقیقت تک پہنچتا ہے۔ وہ اللہ جو انسان کی نگاہوں سے پوشیدہ ہے مگر ہے بڑا عظیم اور با اختیار۔ کوئی اس کا مقابلہ ہرگز نہیں کرسکتا۔ اور یوں ایمان بالغیب کے عقیدہ پر قائم ہو کر انسان بیشمار غیر ضروری فکروں اور خواہ مخواہ کی الجھنوں سے محفوظ ہوجاتا ہے اور بےفکر ہو کر قرآن و حدیث کے احکامات کے مطابق پرسکون زندگی گزارنے لگتا ہے۔
Top