Mafhoom-ul-Quran - Al-Muminoon : 93
قُلْ رَّبِّ اِمَّا تُرِیَنِّیْ مَا یُوْعَدُوْنَۙ
قُلْ : فرما دیں رَّبِّ : اے میرے رب اِمَّا تُرِيَنِّيْ : اگر تو مجھے دکھا دے مَا يُوْعَدُوْنَ : جو ان سے وعدہ کیا جاتا ہے
اے محمد ﷺ ! ) کہو کہ جس عذاب کا ان کفار سے وعدہ ہوا ہے اگر ( تو میری زندگی میں ان پر نازل کر کے) مجھے دکھائے۔
فتنہ ٔ عذاب قبر اور شیاطین سے پناہ مانگنے کی دو دعائیں تشریح : ان آیات میں اس رب جلیل سے دعا مانگنے کا طریقہ سکھایا گیا ہے۔ کیونکہ پچھلی آیات میں دعا مانگنے اور دعا قبول کرنے کا ایک ہی منبع ہے اور وہ ہے رب العزت تو یہاں دو دعائیں نبی کریم ﷺ کے ذریعہ مسلمانوں کو سکھائی گئی ہیں۔ پہلی تو اس عذاب سے بچنے کے لیے جو کفار پر ان کے کفر شرک اور نافرمانی کی وجہ سے آسکتا ہے اور پھر اس میں بےگناہ بھی شامل ہوسکتے ہیں۔ تو ایسے عذاب سے بچنے کے لیے دعائیہ کلمات سکھائے گئے ہیں۔ پھر مکارم اخلاق کی تاکید کرتے ہوئے دوسری دعا سکھائی گئی ہے۔ یعنی آپ برائی کو بھلائی سے ‘ ظلم کو انصاف سے اور بےرحمی کو رحم کے ذریعہ دور کریں۔ اصل میں تو یہ سبق تمام مسلمانوں کو دیا گیا ہے۔ اصل میں یہ حکم اس وقت دیا گیا تھا جب مکہ میں مسلمان بڑی کمزور حالت میں رہ رہے تھے۔ جہاد کا حکم آنے کے بعد بھی مسلمانوں کو حسن اخلاق کا سبق یوں دیا گیا کہ عورتوں بچوں کو اور جو لوگ لڑائی میں شریک نہ ہوں قتل نہ کیا جائے۔ اور لاشوں کی بےحرمتی نہ کی جائے۔ مطلب یہ ہے کہ غصہ میں آکر کوئی ایسا کام نہ کیا جائے جو مسلمان کی شان کے خلاف ہو۔ تو اس کے لیے خاص طور سے دعائیہ کلمات سکھائے گئے ہیں۔ پہلی دعا آیت (94) میں سکھائی گئی ہے اور دوسری دعا آیت (97) میں سکھائی گئی ہے۔ یہ دعا عام حالات میں شیطان جن و انس اور کئی قسم کے حملوں سے بچنے کے لیے بڑی ہی موثر دعا ہے۔ بوقت ضرورت یہ دعا پڑھنی چاہیے۔ اللہ قبول کرے گا اور مطلوبہ مصیبت سے ضرور اپنی پناہ میں رکھے گا۔ یہی تو اس کی شان کریمی ہے۔ کہ ہم مانگیں اور وہ پوری کرے۔ اور یہ مشرکین کے معبود ہرگز نہیں کرسکتے کیونکہ وہ تو خود اللہ کے پیدا کردہ ہیں وہ کسی کی کیا دعا قبول کریں گے۔
Top