بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
Mafhoom-ul-Quran - Ash-Shura : 1
حٰمٓۚ
حٰمٓ : حا۔ میم
حٰـمۗ۔
اللہ کا غلبہ، قدرت، دانائی اور رحم و کرم سب سے زیادہ ہے تشریح : پہلی اور دوسری آیات میں حروف مقطعات ہیں۔ اس کے بعد رب ذوالجلال کی صفات کا ذکر ہے۔ توحید پر ایمان لانا انسان کے لیے بہترین راستہ ہے۔ کیونکہ یہی مبارک راستہ انسان کو زندگی کی تمام قباحتوں سے بچاتا ہے۔ انسان کو ایسانظام حیات عطا کرتا ہے کہ جس کی وجہ سے عبادات، اخلاقیات، معاملات، حقوق اور تعزیرات کا ایک بہترین نقشہ انسان کے ہاتھ میں آجاتا ہے۔ یہ نظام حیات انسان کو ظلم زیادتی، کفر و شرک، بےحیائی بد نظمی اور تمام غم، خوف اور پریشانیوں سے محفوظ کردیتا ہے۔ اسی لیے قرآن کو بہت بڑی رحمت اور اسلام کو سلامتی کا درجہ دیا گیا ہے۔ اس پیغام کو لوگوں تک پہنچانے کا کام بہترین انسانوں کے ذمہ لگایا گیا جیسا کہ حضرت نوح (علیہ السلام) ، حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ، حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور بیشمار نبی پھر سب سے آخر میں حضرت محمد ﷺ کو چنا گیا۔ سب نے سلامتی کے راستہ پر چلنے کی تاکید کی۔ آپ ﷺ کو تمام دنیا کے لیے نبی بنایا گیا اسی لیے فرمایا کہ تمہارے پاس قرآن عربی میں بھیجا ہے تاکہ تم بڑے گاؤں یعنی مکہ کے رہنے والوں کو اور جو اس کے گرد رہتے ہیں ان کو رستہ دکھاؤ۔ (آیت 7) جب ہم دنیا کا نقشہ دیکھتے ہیں تو جزیرہ نمائے عرب دنیا کے عین وسط میں واقع ہے۔ کیونکہ اللہ بڑی حکمت والا ہے وہ جانتا ہے کہ نبی اپنی قوم میں سے ہی ہونا چاہیے اور کتاب بھی اس قوم کی مادری زبان میں ہی ہونی چاہیے اور پھر دین کے اصول و قوانین اس قدر بہترین بنائے کہ حسن کردار، حسن اخلاق اور حسن معاملات کی خوبیوں کو دیکھ کر لوگ خود بخود دین اسلام کی طرف بڑھنے لگتے ہیں۔ جیسا کہ تاریخ اس کی تصدیق کرتی ہے۔ لیکن اس راہ کو اختیار کرنے کے لیے خالص توحید پر قائم رہنا اور اس راہ میں آنے والی دشواریوں کا مقابلہ کرنا بہت ضروری ہے حالانکہ اللہ کی مدد تو شامل حال ہوتی ہی ہے۔ یہ وعدہ اللہ نے کر رکھا ہے، فرماتا ہے : اللہ ضرور ان کی مدد کرے گا جو اس کی مدد کریں گے۔ ( سورة حج 40) اللہ کو ہماری مدد کی ہرگز ضرورت نہیں یہ تو ہمیں خوش کرنے کے لیے فرمایا ہے۔ حالانکہ اگر اللہ تعالیٰ ہمیں رشد و ہدایت دینے کا موقعہ دے تو یہ ہمارے اپنے لیے بہت بڑی سعادت اور خوشی کا مقام ہے کہ اس نے ہمیں اس نیک کام کی توفیق دی۔ نبی اکرم ﷺ نے اپنا فرض بڑی اچھی طرح پورا کردیا ہے اور اب یہ فرض ہر مسلمان پر عائد ہوتا ہے کہ نیکی کا حکم دے اور برائی سے منع کرے کیونکہ یہی راستہ امن و سلامتی کا راستہ ہے۔ آج ہماری حالت بہت خراب ہے مگر بعثت کے وقت اہل عرب کی حالت ہم سے کہیں زیادہ خراب تھی۔ کیونکہ اس وقت وہاں ہر قسم کی برائی، لڑائی جھگڑے، قتل، فساد، لوٹ مار، ظلم و ستم، جوا، شراب اور بت پرستی کا دور دورہ تھا مگر اسلام کی تعلیمات نے ان کو آگ کے گڑھے سے بچا لیا۔ مثال کے طور پر اوس و خزرج مدت سے باہمی جنگ و جدل میں مبتلا تھے مگر جب وہ اسلام کے سائے تلے آگئے تو لا الہ الا اللہ کے عقیدے نے ان کو بھائی بھائی بنا دیا اور مدت کی دشمنی محبت میں بدل گئی۔ آج کا مسلمان ایمان کی کمزوری کی وجہ سے تفرقہ بازی میں مبتلاء ہوگیا ہے۔ کسی بھی قوم کو برباد کرنے کے لیے گروہ بندی اور آپس کا اختلاف بہترین ہتھیار ہے۔ ہمارا مذہب اس کی سخت ممانعت کرتا ہے۔ اصل میں اسلام ایک دین، پورا نظام زندگی ہے اسی طرح شرک بھی بہت بڑا نظام حیات ہے۔ مشرک لوگ اس پر بڑی سختی سے قائم رہنا چاہتے ہیں اس لیے کفار مکہ نے سر توڑ کوشش کی کہ آپ ﷺ کو توحید کا پیغام دینے سے روکیں۔ مگر آپ ﷺ نے ان کی ہرگز پرواہ نہ کی اور دنیا پر ثابت کردیا کہ نیکی میں، سچائی میں اس قدر طاقت ہے کہ صرف ایک اکیلا آدمی پورے اہل عرب سے ٹکرا گیا اور پھر پیغام حق کو پوری دنیا میں پھیلا دیا۔ ام المومنین حضرت عائشہ ؅نے امیر معاویہ کو ایک خط میں لکھا کہ بیشک میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا کہ جس نے لوگوں کی ناراضگی کا اندیشہ نہ کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی خوشنودی تلاش کی اللہ اسے لوگوں کی ایذار سانی سے بچانے کے لیے کافی ہوجائے گا اور جس نے اللہ کو ناراض کر کے لوگوں کی خوشنودی چاہی، اللہ اسے لوگوں کے ہی حوالے کر دے گا۔ (ترمذی) ثابت یہ ہوا کہ صرف عقیدہ توحید ہی ایک ایسی مضبوط بنیاد ہے جس پر ترقی و کامیابی اور سکون و اعتماد کی مضبوط عمارت تعمیر کی جاسکتی ہے حضرت ابن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں، نبی ﷺ نے فرمایا، ” جس شخص نے تمام فکروں کو چھوڑ کر ایک ہی فکر لگا لی یعنی آخرت کی فکر تو اللہ اس کے دینوی تفکرات کے معاملے میں اس کے لیے کافی ہوجائے گا اور جسے طرح طرح کے دنیاوی تفکرات نے پریشان رکھا تو اللہ تعالیٰ پرواہ نہیں کرے گا کہ وہ کس وادی میں ہلاک ہوتا ہے “۔ (ابن ماجہ) اصل میں یہ پیغام ہر اس مسلمان مرد و عورت، بچے بوڑھے اور جوان کے لیے ہے جو کمائی، بیوی بچوں اور مال و دولت کے جنجال میں اس قدر مصروف رہتا ہے کہ اس کو ایک لمحہ کے لیے بھی اللہ ، رسول موت اور آخرت کا خیال تک نہیں آتا۔ جب خیال ہی نہیں آتا تو وہ آخرت کے لیے کیا کرسکتا ہے۔ نہ نماز روزہ کی خبر اور نہ جنت و دوزخ کی فکر بس صبح اٹھے اور کمائی میں لگ گئے رات کو تھکے ہارے بستر پر سو گئے۔ ایسے لوگوں کو اللہ کی طرف رجوع کرنا چاہیے تاکہ اللہ ان کے لیے نیکی کی راہیں کھول دے اور وہ دنیا و آخرت میں سر خرو ہو سکیں۔ ایسے لوگوں کو اس آیت پر غور و فکر کرنی چاہیے ” اللہ ہی تو ہے جس نے سچائی کے ساتھ کتاب نازل کی اور میزان بھی اور تم کو کیا معلوم شاید قیامت قریب ہی آپہنچی ہو “۔ (آیت 17) قیامت اور حساب کتاب کا خیال انسان کو ہلا کر رکھ دیتا ہے اگر وہ اللہ رحمن و رحیم زور والے غالب اور زبردست حساب لینے والے پر پکا یقین رکھنے والا ہو تو ! تعمیر کعبہ کے وقت حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اللہ سے دعا کی تھی کہ اے اللہ ہمارے رب ! ہمیں اپنا مسلم اور فرمانبردار بنا اور ہماری اولاد میں سے ایک ایسی امت کو اٹھا جو تیری مسلم اور فرمانبردار ہو “۔ ( سورة البقرہ آیت 128:) الحمد اللہ کہ ہم ہی ان کی امت میں سے خوش نصیب لوگ ہیں۔ ہمیں اپنی خوش نصیبی اور اپنے اعمال و اعتقادات پر بھی سختی سے نظر رکھنی چاہیے۔ اللہ اس کی توفیق دے۔ آمین
Top