Ashraf-ul-Hawashi - Al-Anbiyaa : 107
اِنَّ الَّذِیْنَ سَبَقَتْ لَهُمْ مِّنَّا الْحُسْنٰۤى١ۙ اُولٰٓئِكَ عَنْهَا مُبْعَدُوْنَۙ
اِنَّ : بیشک الَّذِيْنَ : جو لوگ سَبَقَتْ : پہلے ٹھہر چکی لَهُمْ : ان کے لیے مِّنَّا : ہماری (طرف) سے الْحُسْنٰٓى : بھلائی اُولٰٓئِكَ : وہ لوگ عَنْهَا : اس سے مُبْعَدُوْنَ : دور رکھے جائیں گے
اور اے پیغمبر ہم نے تو تجھ کو سارے جہانکے لئے رحمت بنا کر بھیجا
14 ۔ صرف مسلمانوں کیلئے نہیں بلکہ مسلمان کافر سب کیلئے اور دنیوی و اخروی ہر اعتبار سے آپ ﷺ رحمت بنا کر بھیجے گئے تھے۔ اسلامی اصول و شریعت کے مطالعہ سے پتا چلتا ہے کہ جو اخلاقی قدریں اور دائمی اصول آنحضرت ﷺ کی وساطت سے اللہ تعالیٰ نے متعین فرمائے ہیں وہ آج تک دنیا تلاش نہیں کرسکی۔ اس سے بڑی رحمت اور کیا ہوسکتی ہے۔ ایک حدیث میں آنحضرت ﷺ ﷺ کی اتباع سے ہر قسم کی سعادت حاصل ہوئی۔ مگر کفار کے لئے آپ ﷺ کیسے رحمت ہیں ؟ اس کے جواب میں حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ کے طفیل ہمیشہ کیلئے اللہ تعالیٰ نے پہلی قوموں پر جو ہلاکت خیز عذاب آتے رہے، وہ آنحضرت ﷺ کی بعثت کے بعد روک دء یے اور ایک دفعہ آنحضرت ﷺ نے ابوجہل کے الزامات کے جواب میں فرمایا، والاھدییھم وھمکارھون۔ کہ میں ان کی نرت کے باوجود ان کو ہدایت پر لانے کی کوششیں جاری رکھوں گا۔ اس سے آپ ﷺ کے رحمت ہونے کا مفہوم ہوتا ہے۔ (ابن کثیر، شوکانی)
Top