Tafseer-e-Majidi - Al-Anbiyaa : 74
وَ لُوْطًا اٰتَیْنٰهُ حُكْمًا وَّ عِلْمًا وَّ نَجَّیْنٰهُ مِنَ الْقَرْیَةِ الَّتِیْ كَانَتْ تَّعْمَلُ الْخَبٰٓئِثَ١ؕ اِنَّهُمْ كَانُوْا قَوْمَ سَوْءٍ فٰسِقِیْنَۙ
وَلُوْطًا : اور لوط اٰتَيْنٰهُ : ہم نے اسے دیا حُكْمًا : حکم وَّعِلْمًا : اور علم وَّنَجَّيْنٰهُ : اور ہم نے اسے بچالیا مِنَ الْقَرْيَةِ : بستی سے الَّتِيْ : جو كَانَتْ تَّعْمَلُ : کرتی تھی الْخَبٰٓئِثَ : گندے کام اِنَّهُمْ : بیشک وہ كَانُوْا : وہ تھے قَوْمَ سَوْءٍ : برے لوگ فٰسِقِيْنَ : بدکار
اور لوط کو ہم نے حکمت اور علم عطا کیا،92۔ اور ہم نے انہیں اس بستی سے نجات دی جس کے رہنے والے گندے کام کرتے رہتے تھے بیشک وہ لوگ بڑے ہی بدکار تھے،93۔
92۔ (ان کے مرتبہ وشان کے متناسب) (آیت) ” حکما وعلما “۔ دونوں پر تنوین مرتبہ حکمت وعلم کی تعظیم وشان کے لئے ہے۔ اعلم ان ادخال التنوین علیھما یدل علی علوشان ذلک العلم وذلک الحکم (کبیر) 93۔ لوط (علیہ السلام) پر اور ان کی امت کی بدکاریوں پر حاشیے سورة اعراف میں گزر چکے۔ ان کی اصلی اور سب سے بڑی بدکاری کا شارح تو خود لفظ لواطت ہے۔ باقی وہ قوم اور بھی اخلاقی پستیوں میں پڑی ہوئی تھی۔ روایات یہود میں آتا ہے کہ خیر و خیرات کرنا غریبوں کو کھلانا پلانا ان کی سوسائٹی میں ایک شدید جرم تھا۔ ملاحظہ ہو حاشیہ تفسیر انگریزی۔ (آیت) ” قریۃ “ سے مراد اہل قریہ ہیں (ابن عباس ؓ
Top