Tafseer-e-Majidi - Al-Muminoon : 115
اَفَحَسِبْتُمْ اَنَّمَا خَلَقْنٰكُمْ عَبَثًا وَّ اَنَّكُمْ اِلَیْنَا لَا تُرْجَعُوْنَ
اَفَحَسِبْتُمْ : کیا تم خیال کرتے ہو اَنَّمَا : کہ خَلَقْنٰكُمْ : ہم نے تمہیں پیدا کیا عَبَثًا : عبث (بیکار) وَّاَنَّكُمْ : اور یہ کہ تم اِلَيْنَا : ہماری طرف لَا تُرْجَعُوْنَ : نہیں لوٹائے جاؤگے
ہاں تو کیا تمہارا خیال تھا کہ ہم نے تمہیں یوں ہی بلامقصد پیدا کردیا ہے اور تم ہمارے پاس لوٹا کر لائے نہ جاؤ گے ؟ ،99۔
99۔ تمہاری کیسی شدید حماقت تھی کہ تم اپنی تخلیق ہی کا مقصد نہ سمجھے اور اسی کے دلائل کو جھٹلاتے رہے ! گویا جس طرح شمع یا چراغ گل ہوجاتا ہے، ایسے ہی انسانی روح بھی معدوم محض ہوجاتی ہے۔ قرآن اسی خیال باطل کی تردید کرتا ہے۔ اور انسان کی حیات دنیوی کا انجام پیش گاہ الہی میں حاضری بتاتا ہے۔ اسی میں رد آگیا ان باطل مذہبوں کا جو انسان کا انجام فنائے محض سمجھے ہوئے ہیں۔
Top