Tafseer-e-Majidi - Al-Muminoon : 94
رَبِّ فَلَا تَجْعَلْنِیْ فِی الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ
رَبِّ : اے میرے رب فَلَا تَجْعَلْنِيْ : پس تو مجھے نہ کرنا فِي : میں الْقَوْمِ الظّٰلِمِيْنَ : ظالم لوگ
تو اے میرے پروردگار مجھے ان ظالم لوگوں میں شامل نہ کیجیو،82۔
82۔ یہ تعلیم ہے دیاوآداب دعا کی۔ مطلب یہ ہے کہ ہر مومن کو اللہ سے یہی دعا کرتے رہنا چاہیے کہ ” اردگرد کی پھیلی ہوئی برائیوں سے جب عذاب نازل ہونے لگے تو مجھے محفوظ ومستثنی کردیا جائے۔ ایسا نہ ہو کہ کہیں میں بھی اسی لپیٹ میں آجاؤں۔ “ اور یہ مقام ہے کمال عبدیت کا۔ پیغمبر یہاں محض واسطہ ہیں۔ مقصود امت کو تعلیم دینا ہے۔ ظاہر ہے کہ پیغمبر کے لیے محل عذاب ہونیکا تو احتمال بھی نہیں۔ ” دعا اس وجہ سے نہیں ہے کہ (نعوذ باللہ) ایسا امر محتمل ہے بلکہ اظہار ہے تہویل عذاب کا کہ جو محل اس کا محتمل ہی نہیں ہے۔ جب وہاں امر ہے استعاذہ کا۔ تو جو مستحق ہیں ان کو تو بہت ہی ڈرنا چاہیے۔ اور صحت سوال موقوف نہیں احتمال وقوع پر۔ بلکہ مقدوریت بھی کافی ہے “۔ (تھانوی (رح)
Top