Tafseer-e-Majidi - Al-Muminoon : 96
اِدْفَعْ بِالَّتِیْ هِیَ اَحْسَنُ السَّیِّئَةَ١ؕ نَحْنُ اَعْلَمُ بِمَا یَصِفُوْنَ
اِدْفَعْ : دفع کرو بِالَّتِيْ : اس سے جو هِىَ : وہ اَحْسَنُ : سب سے اچھی بھلائی السَّيِّئَةَ : برائی نَحْنُ : ہم اَعْلَمُ : خوب جانتے ہیں بِمَا : اس کو جو يَصِفُوْنَ : وہ بیان کرتے ہیں
) ان کی) بدی کا دفعیہ ایسے برتاؤ سے کیجیے جو بہت ہی اچھا ہو،84۔ ہم خوب جانتے ہیں جو یہ (آپ کی نسبت) کہا کرتے ہیں،85۔
84۔ (اور ان کی شرارتوں، خباثتوں کا انتقام اپنی طرف سے نہ لیجئے کیا عجب کہ دعوت واصلاح کے حق میں آپ کی یہی بےنفسی مفید ہوجائے) انتقام اپنے نفس کے لیے بھی لینا بالکل جائز ہے۔ لیکن پیغمبر کا مقام رخصت کا نہیں عزیمت کا ہوتا ہے اسے تعلیم اسی بلند مقام پر رہنے کی دی گئی ہے۔ یہ حکم اس وقت تک کے لیے ہے جب تک عذاب موعود نہ آئے۔ جہاد و قتال کا حکم، حقوق دین کے تحفظ کے لیے ہے اور یہ نرمی کی تعلیم حقوق نفس کے سلسلہ میں ہے۔ دونوں کا فرق خوب ملحوظ رہے۔ 85۔ (بس اس کا استحضار رہے۔ تو آپ کو انتقام لینے کی ضرورت ہی کیا باقی رہ جاتی ہے ہم خود ہی ہر سزا کے لیے کافی ہیں)
Top