Tafseer-e-Majidi - Al-Muminoon : 97
وَ قُلْ رَّبِّ اَعُوْذُ بِكَ مِنْ هَمَزٰتِ الشَّیٰطِیْنِۙ
وَقُلْ : اور آپ فرما دیں رَّبِّ : اے میرے رب اَعُوْذُ : میں پناہ چاہتا ہوں بِكَ : تیری مِنْ : سے هَمَزٰتِ : وسوسے (جمع) الشَّيٰطِيْنِ : شیطان (جمع)
اور آپ کہیے کہ اے میرے پروردگار میں تجھ سے پناہ مانگتا ہوں شیطانوں کے وسوسوں سے،86۔
86۔ (کہ میں ان کافروں سے خلاف مصلحت مقابلہ پر آمادہ ہوجاؤں) پیغمبر کے لیے اس کا تو احتمال ہی نہیں کہ شیطان انہیں کسی معصیت پر لاسکتا ہے۔ بس یہی ہوسکتا ہے کہ وہ اپنی ترغیبات سے کسی امر خلاف مصلحت پر آمادہ کردے۔ یہاں اس سے بھی پناہ مانگنے کی دعا ارشاد ہوگئی ہے۔ عارفین نے کہا ہے کہ وسوسوں کا امکان جب منتہیوں کے لیے ہے تو مبتدی کہاں بچ سکتے ہیں۔
Top