Tafseer-e-Majidi - Al-Qasas : 60
وَ مَاۤ اُوْتِیْتُمْ مِّنْ شَیْءٍ فَمَتَاعُ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ زِیْنَتُهَا١ۚ وَ مَا عِنْدَ اللّٰهِ خَیْرٌ وَّ اَبْقٰى١ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ۠   ۧ
وَمَآ اُوْتِيْتُمْ : اور جو دی گئی تمہیں مِّنْ شَيْءٍ : کوئی چیز فَمَتَاعُ : سو سامان الْحَيٰوةِ : زندگی الدُّنْيَا : دنیا وَزِيْنَتُهَا : اور اس کی زینت وَمَا : اور جو عِنْدَ اللّٰهِ : اللہ کے پاس خَيْرٌ : بہتر وَّاَبْقٰى : اور باقی رہنے والا۔ تادیر اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ : سو کیا تم سمجھتے نہیں
اور تمہیں جو کچھ بھی دیا گیا ہے وہ محض دنیوی زندگی کو برتنے کیلئے ہے اور اس کی زینت ہے اور جو کچھ اللہ کے ہاں ہے وہ بہتر بھی ہے اور پائیدار تر بھی، سو کیا تم لوگ نہیں سمجھتے ؟ ،79۔
79۔ یعنی اس دنیا کی لذتوں اور آخرت کی راحتوں کا مقابلہ ہی کیا ؟ اس دنیا کی بڑی سے بڑی نعمت بھی محض عارضی وچند روزہ۔ بخلاف عیش آخرت کے کہ وہ بلحاظ نوعیت وکیفیت بھی کہیں اعلی اور بلحاظ بقا تو دائم وقائم ہے۔
Top