Tafseer-e-Majidi - Al-Qasas : 9
وَ قَالَتِ امْرَاَتُ فِرْعَوْنَ قُرَّتُ عَیْنٍ لِّیْ وَ لَكَ١ؕ لَا تَقْتُلُوْهُ١ۖۗ عَسٰۤى اَنْ یَّنْفَعَنَاۤ اَوْ نَتَّخِذَهٗ وَلَدًا وَّ هُمْ لَا یَشْعُرُوْنَ
وَقَالَتِ : اور کہا امْرَاَتُ : بیوی فِرْعَوْنَ : فرعون قُرَّةُ : ٹھنڈک عَيْنٍ لِّيْ : میری آنکھوں کے لیے وَلَكَ : اور تیرے لیے لَا تَقْتُلُوْهُ : تو قتل نہ کر اسے عَسٰٓى : شاید اَنْ يَّنْفَعَنَآ : کہ نفع پہنچائے ہمیں اَوْ نَتَّخِذَهٗ : یا ہم بنالیں اسے وَلَدًا : بیٹا وَّهُمْ : اور وہ لَا يَشْعُرُوْنَ : (حقیقت حال) نہیں جانتے تھے
اور فرعون کی بیوی بولیں کہ یہ (بچہ) میری اور تیری آنکھ کی ٹھنڈک ہے اسے قتل مت کرنا عجب کیا کہ یہ ہمیں نفع پہنچائے یا ہم اسے اپنا بیٹا ہی بنا لیں اور انہیں کچھ خبر نہ تھی (انجام کی) ،9۔
9۔ (کہ اسی بچہ کے ہاتھوں فرعون کی سلطنت غارت ہوگی) اے لایشعرون ان ھلاکھم بسببہ وعلی یدہ وھذا قول مجاھد وقتادۃ والضحاک ومقاتل (کبیر) (آیت) ” امرات فرعون “۔ سے مراد حضرت آسیہ ہیں۔ توریت محرف میں انہیں فرعون کی لڑکی بتایا گیا ہے۔ قرآن نے اس پرانی تاریخی غلطی کی اصلاح کرکے بتایا کہ وہ خاتون بیٹی نہیں بیوی تھیں۔ البتہ یہ بھی ممکن ہے کہ وہ اصلا بیٹی ہی ہو جس کے ساتھ بعد کو فرعون نے شادی کرلی ہو۔ اس پر حیرت نہ کی جائے۔ متعدد جاہلی شاہی خاندانوں میں عام رواج محرمات ہی سے شادی کرنے کا رہا ہے۔ اور مصر کے شاہی (فرعونی) خاندان میں بادشاہ کا اپنی ہمشیر سے نکاح کرنے کا دستور تو عام تھا۔ بیٹی سے شادی کرکے اسے ملکہ بنالینے کا تاریخی ثبوت تو موجود نہیں۔ لیکن ہمشیر کے نکاح پر قیاس کرکے اس کا امکان تو بہرحال موجود ہے۔ ملاحظہ ہو تفسیر انگریزی۔ توریت میں ہے :۔” تب فرعون کی بیٹی غسل کرنے دریا پر اتری اور اس کی سہیلیاں دریا کے کنارہ پر پھرنے لگیں۔ اس نے جھاڑ میں ٹوکرا دیکھ کر اپنی سہیلی کو بھیجا کہ اسے اٹھا لے جب اس نے اسے کھولا تو لڑکے کو دیکھا، اور دیکھا کہ وہ روتا ہے۔ اسے اس پر رحم آیا۔ اور بولی یہ کسی عبرانی کا لڑکا ہے “۔ (خروج۔ 2: 5، 6) عارفین نے کہا کہ اہل اللہ سے محبت رائیگاں نہیں جاتی چناچہ موسیٰ (علیہ السلام) سے محبت کا نتیجہ حضرت آسیہ نے مشاہدہ کرلیا کہ مشرف باایمان ہی نہیں ہوئیں بلکہ افضل نساء عالمین قرار پائیں۔ مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ اس قول کا سبب محض حب طبعی تھا لیکن اہل اللہ کے ساتھ حب طبعی بھی، بشرطیکہ کوئی مانع موجود نہ ہو۔ ایمان وہدایت میں نافع ہوجاتی ہے۔
Top