Tafseer-e-Majidi - Ash-Shura : 18
یَسْتَعْجِلُ بِهَا الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِهَا١ۚ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مُشْفِقُوْنَ مِنْهَا١ۙ وَ یَعْلَمُوْنَ اَنَّهَا الْحَقُّ١ؕ اَلَاۤ اِنَّ الَّذِیْنَ یُمَارُوْنَ فِی السَّاعَةِ لَفِیْ ضَلٰلٍۭ بَعِیْدٍ
يَسْتَعْجِلُ : جلدی مانگتے ہیں بِهَا الَّذِيْنَ : اس کو وہ لوگ لَا يُؤْمِنُوْنَ بِهَا : جو ایمان نہیں لاتے اس پر وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا : اور وہ لوگ جو ایمان لائے مُشْفِقُوْنَ مِنْهَا : ڈرنے والے ہیں اس سے وَيَعْلَمُوْنَ : اور وہ علم رکھتے ہیں اَنَّهَا : کہ بیشک وہ الْحَقُّ : حق ہے اَلَآ : خبردار اِنَّ الَّذِيْنَ : بیشک وہ لوگ يُمَارُوْنَ : جو بحثین کرتے ہیں۔ جھگڑتے ہیں فِي السَّاعَةِ : قیامت کے بارے میں لَفِيْ ضَلٰلٍۢ بَعِيْدٍ : البتہ کھلی گمراہی میں ہیں
اس کے لئے جلدی وہی لوگ مچا رہے ہیں جو اس پر ایمان رکھتے اور جو لوگ ایمان رکھتے ہیں اور اس سے ڈرتے رہتے ہیں اور یقین رکھتے ہیں کہ وہ برحق ہے،23۔ یاد رکھو کہ لوگ قیامت کے باب میں جھگڑے نکالتے ہیں دوردراز کی گمراہی میں مبتلا ہیں،
23۔ یعنی قیامت کو اگر آنا ہے تو آکیوں نہیں جاتی۔ تقاضا بطور استہزاء تو منکرین ہی کی طرف سے ہوتا رہتا ہے۔ باقی جو اہل ایمان ویقین ہیں وہ تو اس کے یقینی وقوع سے اور اپنے اعمال کی کوتاہیوں پر نظر کرکے ہمیشہ اس سے عقلا خائف ہی رہتے ہیں (گو کبھی حالا واضطرار اس کا شوق غالب بھی آجائے)
Top