Tafseer-e-Majidi - Ash-Shura : 20
مَنْ كَانَ یُرِیْدُ حَرْثَ الْاٰخِرَةِ نَزِدْ لَهٗ فِیْ حَرْثِهٖ١ۚ وَ مَنْ كَانَ یُرِیْدُ حَرْثَ الدُّنْیَا نُؤْتِهٖ مِنْهَا وَ مَا لَهٗ فِی الْاٰخِرَةِ مِنْ نَّصِیْبٍ
مَنْ كَانَ : جو کوئی ہے يُرِيْدُ : ارادہ رکھتا۔ چاہتا ہے حَرْثَ الْاٰخِرَةِ : آخرت کی کھیتی کا نَزِدْ لَهٗ : ہم زیادہ کردیتے ہیں اس کے لیے فِيْ حَرْثِهٖ : اس کی کھیتی میں وَمَنْ : اور جو کوئی كَانَ : ہے يُرِيْدُ : ارادہ رکھتا حَرْثَ الدُّنْيَا : دنیا کی کھیتی کا نُؤْتِهٖ مِنْهَا : ہم دیتے ہیں اس کو اس میں سے وَمَا لَهٗ : اور نہیں اس کے لیے فِي : میں الْاٰخِرَةِ : آخرت (میں) مِنْ نَّصِيْبٍ : کوئی حصہ
جو کوئی آخرت کی کھیتی کا طالب ہے ہم اسے اس کی کھیتی میں ترقی دی گے، اور جو کوئی دنیا کی کھیتی کا طالب ہے ہم اسے کچھ دنیا میں سے دیں گے اور آخرت میں اس کا کچھ حصہ نہ ہوگا،25۔
25۔ (اس لئے کہ آخرت میں حصہ ملنے کی پہلی شرط ایمان ہے اور وہی یہاں مفقود ہے) مطلب یہ ہوا کہ طلب کے قابل صرف آخرت ہے (دنیا اس میں ضمنا خود ہی آجائے گی) نہ کہ دنیا کہ وہ حسب تمنا نصیب نہیں ہوپاتی اور اس میں پڑنے سے آخرت سے بالکل حرمان ہی ہوجاتا ہے۔ (آیت) ” من کان یرید حرث الاخرۃ “۔ یعنی اس کا مطمح نظر تمامتر دنیا ہی ہے۔ اس کی کسی سعی وتدبیر کا آخرت سے کوئی تعلق ہی نہیں۔ ایسے شخص سے ظاہر ہے کہ ایمان تک مفقود ہوگا۔ اہل ایمان اس کے برعکس نہ دنیا کو سرے سے ترک کردیتے ہیں، نہ اسے اپنا مطمح نظر بنائے رکھتے ہیں بلکہ دنیا کو آخرت کا ذریعہ بناتے ہیں۔ (آیت) ” حرث الدنیا۔ حرث الاخرۃ “۔ خوب خیال کرلیاجائے کہ قرآن مجید تجارتی، مالی، کاروباری اصطلاحات کے ساتھ ساتھ زراعت وفلاحت کی اصطلاحیں بھی کثرت سے لاتا ہے۔ تو کیا ان کے (تجویز کئے ہوئے) کچھ شریک ہیں جنہوں نے ان کے لئے ایسا دین مقرر کردیا ہے جس کی اللہ نے اجازت نہیں دی ہے ؟
Top