Tafseer-e-Majidi - Ash-Shura : 22
تَرَى الظّٰلِمِیْنَ مُشْفِقِیْنَ مِمَّا كَسَبُوْا وَ هُوَ وَاقِعٌۢ بِهِمْ١ؕ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فِیْ رَوْضٰتِ الْجَنّٰتِ١ۚ لَهُمْ مَّا یَشَآءُوْنَ عِنْدَ رَبِّهِمْ١ؕ ذٰلِكَ هُوَ الْفَضْلُ الْكَبِیْرُ
تَرَى الظّٰلِمِيْنَ : تم دیکھو گے ظالموں کو مُشْفِقِيْنَ : ڈر رہے ہو گے مِمَّا : اس سے جو كَسَبُوْا : انہوں نے کمائی کی وَهُوَ : اور وہ وَاقِعٌۢ بِهِمْ : واقع ہونے والا ہے ان پر وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا : اور وہ لوگ جو ایمان لائے وَعَمِلُوا : اور انہوں نے عمل کیے الصّٰلِحٰتِ : اچھے فِيْ رَوْضٰتِ الْجَنّٰتِ : جنتوں کے باغوں میں ہوں گے لَهُمْ : ان کے لیے مَّا يَشَآءُوْنَ : جو وہ چاہیں گے عِنْدَ رَبِّهِمْ : ان کے رب کے پاس ہوگا ذٰلِكَ : یہی هُوَ الْفَضْلُ الْكَبِيْرُ : وہ فضل ہے بڑا
آپ کافروں کو دیکھیں گے ڈرتے ہوئے اپنے کرتوتوں سے اس حال میں کہ (وبال) ان پر پڑکر رہے گا اور جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک عمل بھی کئے وہ بہشتوں کے میں ہوں گے (اور) جس چیز کو بھی چاہیں گے ان کے پروردگار کے پاس انہیں ملے گی، بس یہی تو بڑا انعام ہے،27۔
27۔ (نہ کہ وہ عیش و آرام جو اسی دنیا میں تک محمود ومخصوص رہے) (آیت) ” الظلمین “۔ یہاں بھی مراد کافر ہی ہیں اے المشرکین۔ (معالم) دنیا میں ہیبت حق سے اہل ایمان ڈرتے رہتے ہیں اور منکرو کافر آخرت کی طرف سے بےفکر رہتے ہیں۔ آخرت میں جب مشاہدہ احوال ہونے لگے گا یہ ترتیب الٹ جائے گی۔ منومنین کے چہرہ پر اطمینان وبشاشت کے انوار ہوں گے اور کافروں منکروں کے منہ پر ہوائیاں اڑ رہی ہوں گی۔ (آیت) ” الجنت “۔ جنات کو صیغہ جمع میں اس لئے لائے کہ بہشت کے مختلف طبقہ اور درجہ ہیں۔ ہر ہر طبقہ خود ایک بہشت ہے، پھر ہر طبقہ کے اندر باغات متعدد ہیں۔ اپنے اپنے درجہ و مرتبہ کے مطابق کوئی کہیں ہوگا اور کوئی کہیں۔ (آیت) ” لھم ...... عندربھم “۔ ہو جو کچھ بھی چاہیں گے اپنے پروردگار کے ہاں حاصل کرلیں گے۔ “ ان چند الفاظ کے اندر ال جنت کے لئے جنت کے لیے ہر ممکن لذت و راحت وآسائش کی بشارت آگئی۔ امام رازی (رح) نے کہا ہے کہ انعامات جنت لامتناہی ہوں گے کیونکہ انسان کی خواہشیں تو کسی منزل ومقام پر بھی پہنچ کر رک نہیں جاتیں، وہ تو اور اس کے بعد کا بھی درجہ چاہا ہی کرتا ہے۔ یدخل فی باب غیرہ المتناھی لانہ لادرجۃ الا والانسان یرید ماھو اعلی منھا (کبیر) اور یہ بھی کہا ہے کہ اس درجہ کی کنہ وماہیت تک بجز حق تعالیٰ کے کسی کا ذہن نہیں پہنچ سکتا۔ وفی ذلک علی ان ذلک الجزاء قد بلغ الی حیث لا یعلم کنھہ الا اللہ تعالیٰ (کبیر) (آیت) ” ذلک ھو الفضل الکبیر “۔ متکلمین نے اس سے یہ نکالا ہے کہ آخرت میں جو کچھ بھی انعامات حاصل ہوں گے وہ اگرچہ عمل ہی پر مرتب ہوں گے تاہم بطریق استحقاق نہ ہوں صرف بطریق فضل ہوں گے۔ اللہ کے ذمہ واجب نہیں ہے۔ بلکہ بطور فضل ولطف حاصل ہوجائے گا۔ واصحابنا استدلوا بھذہ الایۃ علی ان الثواب غیر واجب علی اللہ وانما یحصل بطریق الفضل من اللہ تعالیٰ (کبیر) وھذا تصریح بان الجزاء المرتب علی العمل انما حصل بطریق الفضل لا بطریق الاستحقاق (کبیر)
Top