Tafseer-e-Majidi - Ash-Shura : 38
وَ الَّذِیْنَ اسْتَجَابُوْا لِرَبِّهِمْ وَ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ١۪ وَ اَمْرُهُمْ شُوْرٰى بَیْنَهُمْ١۪ وَ مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ یُنْفِقُوْنَۚ
وَالَّذِيْنَ اسْتَجَابُوْا : اور وہ لوگ جو حکم مانتے ہیں لِرَبِّهِمْ : اپنے رب کا وَاَقَامُوا الصَّلٰوةَ : اور قائم کرتے ہیں نماز وَاَمْرُهُمْ : اور ان کے معاملات شُوْرٰى بَيْنَهُمْ : آپس کے مشورے سے ہوتے ہیں وَمِمَّا رَزَقْنٰهُمْ : اور اس میں سے جو رزق دیاہم نے ان کو يُنْفِقُوْنَ : وہ خرچ کرتے ہیں
اور جن لوگوں نے اپنے پروردگار کا حکم مانا اور نماز کی پابندی کی اور ان کا یہ اہم) کام باہمی مشورہ سے ہوتا ہے اور جو کچھ ہم نے انہیں دے رکھا ہے اس میں سے خرچ کرتے رہتے ہیں،43۔
43۔ یہ سارے اوصاف مومنین صادقین کے بیان ہورہے ہیں۔ انفرادی واجتماعی دونوں قسم کی نیکیاں ان میں آگئیں۔ (آیت) ” وامرھم شوری بینھم “۔ باہمی مشورہ کی اہمیت اسی سے ظاہر ہے کہ شوری کا ذکر نماز وزکوۃ کے ساتھ فرمایا گیا ہے۔.... اجتماعی صورت میں اس حکم کی تعمیل کی صورت یہ ہے کہ حکومت، حکومت شوری ہو، جیسی کہ خفاء راشدین کی تھی، فقہاء مفسرین نے شوری کی اہمیت کو خوب سمجھا ہے۔ یدل علی جلالۃ موقع المشورۃ لذکرہ لھا مع الایمان واقامۃ الصلوۃ ویدل علی انا ما مورون بھا (جصاص) البتہ شوری کے سلسلہ میں یہ یاد رہے کہ مشورہ صرف انہیں امور میں پسندیدہ ہے، جو بجائے خود قابل مشورہ ہوں گے، اور جو چیزیں احکام قطعی میں داخل کہیں مثلا نماز پنجگانہ، رمضان کے روزے وغیرہا، سو ان میں مشورہ نہیں۔
Top