Tafseer-e-Majidi - Al-Hashr : 5
مَا قَطَعْتُمْ مِّنْ لِّیْنَةٍ اَوْ تَرَكْتُمُوْهَا قَآئِمَةً عَلٰۤى اُصُوْلِهَا فَبِاِذْنِ اللّٰهِ وَ لِیُخْزِیَ الْفٰسِقِیْنَ
مَا قَطَعْتُمْ : جو تم نے کاٹ ڈالے مِّنْ : سے لِّيْنَةٍ : درخت کے تنے اَوْ : یا تَرَكْتُمُوْهَا : تم نے اس کو چھوڑدیا قَآئِمَةً : کھڑا عَلٰٓي : پر اُصُوْلِهَا : اس کی جڑوں فَبِاِذْنِ اللّٰهِ : تو اللہ کے حکم سے وَلِيُخْزِيَ : اور تاکہ وہ رسوا کرے الْفٰسِقِيْنَ : نافرمانوں کو
جو کھجوروں کے درخت تم نے کاٹے یا انہیں ان کی جڑوں پر قائم رہنے دیا، سو یہ دونوں اللہ ہی کے حکم کے موافق ہیں،8۔ اور تاکہ اللہ نافرمانوں کو رسول کرے،9۔
8۔ یعنی شرعا دونوں ہی کی گنجائش تھی، دشمن کو تکلیف پہنچانے کے لئے درختوں کے کاٹ دینے کی بھی، اور اپنے آئندہ نفع کے خیال سے ان کے باقی رکھنے کی بھی۔ (آیت) ” من لینۃ “۔ لینۃ ہر کھجور کو کہتے ہیں۔ اور ایک قول ہے کہ عمدہ قسم کے کھجوروں کو، قال مجاھد وعمر وبن میمون کل نخلۃ لینۃ وقیل اللینۃ کرام النخل (جصاص) من نخلۃ ناعمۃ (راغب) وھی اجود النخل (کشاف) فقہاء نے یہیں سے استنباط کیا ہے کہ اختلاف مسلک جبکہ حدود شرعی کے اندر اور اخلاص کے ساتھ ہو، مضر نہیں، اور ایک کو دوسرے پر عیب لگانے کا حق نہیں۔ 9۔ (اور مسلمانوں کو عزت دے) چناچہ ترک باغات میں بھی مسلمانوں کی کامیابی کا تیقن تھا اور قطع باغات میں بھی مسلمانوں کی دوسری کامیابی یعنی آثار غلبہ کا ظہور تھا۔ اور کافروں کا غیظ اور مقہوری دونوں صورتوں میں مشترک، جائز دونوں ہی فعل ہیں، اور دونوں ہی حکمت ومصلحت پر بھی مبنی ہیں۔ اس لئے قبیح بھی کوئی نہیں۔ مسلمانوں نے قیاس فقہی اس وقت قائم کیا تھا۔ اس میں قیاس کے مبنی بھی دونوں قسم کے نصوص تھے جنہوں نے درخت کاٹے یا جلائے انہوں نے نصوص تخریب وانہدام آثار کفر سے کام لیا۔ جنہوں نے درخت باقی رہنے دیئے انہوں نے نصوص اصلاح وحفظ اموال کو سامنے رکھا۔ ہر دو فریق نے اپنے اپنے اجتہاد سے کام لیا تھا۔ اور حق تعالیٰ نے دونوں کے عمل کی جو صورۃ ایک دوسرے کے منافی اور متناقض تھے، تصویب فرمائی۔ صوب اللہ الذین قطعوا والذین ابوا وکانوا فعلوا ذلک من طریق الاجتھاد (جصاص) اور یہیں سے فقہاء نے یہ قاعدہ بھی اخذ کیا ہے کہ مجتہد بہرحال مستحق اجر ہوتا ہے۔ وھذا یدل علی ان کل مجتھد مصیبت (جصاص)
Top