Tafseer-e-Majidi - Al-Mulk : 26
قُلْ اِنَّمَا الْعِلْمُ عِنْدَ اللّٰهِ١۪ وَ اِنَّمَاۤ اَنَا نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌ
قُلْ : کہہ دیجئے اِنَّمَا الْعِلْمُ : بیشک علم عِنْدَ اللّٰهِ : اللہ کے پاس ہے وَاِنَّمَآ : اور بیشک اَنَا نَذِيْرٌ : میں ڈرانے والا ہوں مُّبِيْنٌ : کھلم کھلا
آپ کہہ دیجئے کہ (متعین) علم تو بس اللہ ہی کو ہے، اور میں تو بس ایک کھلا ہوا ڈرانے والا ہوں،21۔
21۔ (اور عبد محض، مجھے غیب کی کیا خبر۔ قیامت کا واقع کردینا نہ میرے اختیار میں نہ اس کا وقت میرے علم میں) مشرکوں کے سوال پیغمبر سے اپنے عقیدہ میں بس وہی حلول ومظہریت کا اعتقاد رکھتے تھے۔
Top