Tafseer-e-Majidi - Al-Mulk : 27
فَلَمَّا رَاَوْهُ زُلْفَةً سِیْٓئَتْ وُجُوْهُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ قِیْلَ هٰذَا الَّذِیْ كُنْتُمْ بِهٖ تَدَّعُوْنَ
فَلَمَّا : پھر جب رَاَوْهُ : وہ دیکھ لیں گے اس کو زُلْفَةً : نزدیک سِيْٓئَتْ : بگڑ جائیں گے وُجُوْهُ الَّذِيْنَ : چہرے ان لوگوں کے كَفَرُوْا : جنہوں نے کفر کیا وَقِيْلَ : اور کہہ دیاجائے گا هٰذَا الَّذِيْ : یہ ہے وہ چیز كُنْتُمْ : تھے تم بِهٖ : ساتھ اس کے تَدَّعُوْنَ : تم تقاضا کرتے
پھر جب وہ اس (قیامت) کو پاس آتا دیکھ لیں گے تو کافروں کے چہرے بگڑجائیں گے اور ان سے کہا جائے گا یہی ہے وہ جسے تم طلب کیا کرتے تھے،22۔
22۔ یہ کہنے والے فرشتے ہوں گے اور یہ اہل جہنم سے ان کی مزید توبیخ اور زیادہ دل جلانے کے لئے کہا جائے گا۔ (آیت) ” راؤہ “۔ ضمیرہ اسی یوم موعود کی جانب ہے۔ اے الوعد یعنی العذاب الموعود (مدارک) یعنی العذاب فی الاخرۃ علی قول اکثر المفسرین (معالم) (آیت) ” سیٓئت وجوہ الذین کفروا “۔ یعنی جب قیامت واقعۃ آنے لگے گی تو منکرین کے چہرے فرط ہیبت و دہشت سے بگڑ کر رہ جائیں گے۔
Top