Tafseer-e-Majidi - Al-Mulk : 4
ثُمَّ ارْجِعِ الْبَصَرَ كَرَّتَیْنِ یَنْقَلِبْ اِلَیْكَ الْبَصَرُ خَاسِئًا وَّ هُوَ حَسِیْرٌ
ثُمَّ ارْجِعِ : پھر لوٹاؤ الْبَصَرَ : نگاہ کو كَرَّتَيْنِ : بار بار يَنْقَلِبْ : لوٹ آئے گی اِلَيْكَ الْبَصَرُ : تیری طرف نگاہ خَاسِئًا : ذلیل ہوکر۔ عاجز ہو کر وَّهُوَ حَسِيْرٌ : اور وہ تھکی ہوئی ہوگی
پھر بار بار نگاہ ڈال کر دیکھ نگاہ (ہی آخر) ذلیل، درماندہ ہو کر تیری طرف لوٹ آئے گی،4۔
4۔ (اے مخاطب ! ) آیت سے مقصود آسمانوں کی تعداد یاہیئت یا جمود وغیرہ کا بیان کرنا نہیں بلکہ مقصود حق تعالیٰ کا فاطر کائنات کے کمال صناعی وصنعت گری کا اظہار ہے۔ آسمان، اس کی ماہیت و حقیقت جو کچھ بھی ہو۔ بہرحال حسن صنعت کا بہترین وکامل ترین نمونہ ہے، ہر عیب، ہر نقص سے پاک، تو جب اس مخلوق اعظم کا یہ حال ہے تو اور ساری مخلوق اس سے تو فروتر ہی ہے۔ ان کا اتنا مرتب و محفوظ اور حسین و جمیل رکھنا اس کے لئے کیا دشوار ہے۔ آیت منکرین صنعت باری کے لئے ایک چیلنج ہے کہ ہر مخلوق کو چھان بین کر خوب غور سے دیکھ لیں کسی میں کوئی بات خلاف حکمت نہ پائیں گے۔ (آیت) ” فارجع البصر “۔ محققین نے کہا ہے کہ یہ پہلی نظر عوام کی ہے جو صرف وجود اور حسن ظاہردیکھ کر کمال صانع کے قائل ہوجاتے ہیں۔ (آیت) ” ثم ارجع البصر “۔ اہل نظر نے کہا ہے کہ یہ دوسری نظر اہل نظر واہل حکمت کی ہے جو ہر ہر مخلوق کے مصالح کو دیکھ کر سمجھ لیتے ہیں کہ جو نظم تکوینی موجود ہے اس سے بہتر ہونا محال تھا اور اس پر مجال حرف گیری نہیں۔ (آیت) ” ینقلب الیک البصر “۔ عارفین نے کہا ہے کہ یہ تیسری نظر خواص اہل حق کی ہے جو اپنی نظر سے خود نادم ہو کر اپنے عجز وجہل کے معترف ہوتے ہی۔ (آیت) ” فارجع البصر “۔ امر فارجع تکلیفی وتشریعی نہیں تعجیزی ہے یعنی تم دیکھ لو، تجربہ کرلو، آخرخود ہی تھک جاؤ گے۔ (آیت) ” کر تین “۔ صیغہ تثنیہ یہاں محض اظہار تعدد کے لئے ہے دو (2) کا متعین عدد مراد نہیں۔ والمراد بالتثنیۃ التکریر والتکثیر کما فی لبیک وسعدیک (بیضاوی)
Top