Tafseer-e-Majidi - Al-Israa : 73
وَ اِنْ كَادُوْا لَیَفْتِنُوْنَكَ عَنِ الَّذِیْۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ لِتَفْتَرِیَ عَلَیْنَا غَیْرَهٗ١ۖۗ وَ اِذًا لَّاتَّخَذُوْكَ خَلِیْلًا
وَاِنْ : اور تحقیق كَادُوْا : وہ قریب تھا لَيَفْتِنُوْنَكَ : کہ تمہیں بچلا دیں عَنِ : سے الَّذِيْٓ : وہ لوگ جو اَوْحَيْنَآ : ہم نے وحی کی اِلَيْكَ : تمہاری طرف لِتَفْتَرِيَ : تاکہ تم جھوٹ باندھو عَلَيْنَا : ہم پر غَيْرَهٗ : اس کے سوا وَاِذًا : اور اس صورت میں لَّاتَّخَذُوْكَ : البتہ وہ تمہیں بنا لیتے خَلِيْلًا : دوست
اور ہم قرآن میں ایسی چیزیں نازل کرتے ہیں جو ایمان والوں کے حق میں شفا اور رحمت ہیں اور ظالموں کا اس سے اور نقصان ہی بڑھتا ہے،121۔
121۔ یعنی جو لوگ قرآن کے باب میں ظالم ہیں اس کے حقائق کو بہ نظر انصاف نہیں دیکھتے ان کے کام اشاعت قرآنی کے عموم سے اور بگڑتے ہی جاتے ہیں۔ (آیت) ” شفآء “۔ یعنی عقاید فاسد اور اعمال فاسد سے نجات (آیت) ” رحمۃ “۔ یعنی احکام الہی پر عمل خود رحمت الہی کا جاذب ہوجائے گا۔ مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ اصطلاح سلوک میں (آیت) ” شفآء “۔ سے اشارہ ہے تخلیہ کی طرف اور (آیت) ” رحمۃ “۔ سے اشارہ ہے تجلیہ کی جانب۔
Top