Tafseer-e-Mazhari - Al-Muminoon : 110
فَاتَّخَذْتُمُوْهُمْ سِخْرِیًّا حَتّٰۤى اَنْسَوْكُمْ ذِكْرِیْ وَ كُنْتُمْ مِّنْهُمْ تَضْحَكُوْنَ
فَاتَّخَذْتُمُوْهُمْ : پس تم نے انہیں بنا لیا سِخْرِيًّا : ٹھٹھا : یہاں تک کہ اَنْسَوْكُمْ : انہوں نے بھلا دیا تمہیں ذِكْرِيْ : میری یاد وَكُنْتُمْ : اور تم تھے مِّنْهُمْ : ان سے تَضْحَكُوْنَ : ہنسی کیا کرتے تھے
تو تم ان سے تمسخر کرتے رہے یہاں تک کہ ان کے پیچھے میری یاد بھی بھول گئے اور تم (ہمیشہ) ان سے ہنسی کیا کرتے تھے
فاتخذ تموہم سخریا سو تم نے ان کو مسخرہ بنایا۔ سِخْرِیًّاکسائی اور فراء نے کہا سخریا بہ کسر سین کسی کا باتوں میں مذاق اڑانا ‘ استہزاء کرنا اور سخریا بضم سین ‘ کسی کو عملاً غلام بنا لینا تحقیر کرنا۔ سورة زخرف میں باتفاق اہل قراءت بضم سین ہے استہزاء قولی کا احتمال ہی وہاں نہیں ہے۔ خلیل نے کہا دونوں لفظ ہم معنی ہیں جیسے بحر ولحی اور بحر رلحی ‘ اور کَوْکَبٌ دُرِّی اور کوکب دِرِی۔ قاموس میں بھی اسی طرح آیا ہے۔ صاحب قاموس نے لکھا ہے سَخِرُوْا مِنْہُ اور سَخِرُوْا بِہٖاس سے مذاق کیا اور اس کا مذاق اڑایا۔ اسم سخریتہ اور سخری بالضم وبالکسر آتا ہے۔ سَخَرَۃ سِخْرِیًّا وَسُخْرِیًّا اس کو روک دے یا مجبور کیا ایسے کام کا مکلف کیا جو وہ کرنا نہیں چاہتا۔ کذا فی النہایۃ۔ بہرحال سخری مصدر اور مبالغہ کے لئے یاء بڑھا دی گئی ہے اور یہاں استہزاء مراد ہے کیونکہ آگے آتا ہے۔ حتی انسوکم ذکری وکنتم منہم تضحکون۔ یہاں تک (ان سے مذاق کرنے کا مشغلہ کیا) کہ اس مشغلہ نے تم کو میری یاد بھلا دی اور تم ان سے ہنسی کیا کرتے تھے۔ ہنسی استہزاء قولی کے بعد ہی ہوتی ہے۔ یاد خدا کو بھلانے کی نسبت مؤمنوں کی طرف مجازاً کی گئی ہے۔ حقیقت میں اہل ایمان کے ساتھ ہنسی کرنے اور ان کا مذاق بنانے کا مشغلہ موجب نسیان تھا اور اس جگہ یہی مراد ہے۔ مقاتل نے کہا اس آیت کا نزول فقراء صحابہ کے متعلق ہوا جیسے حضرت عمار ‘ حضرت صہیب ‘ حضرت سلمان وغیرہ قریش کے کافر ان سے بہت استہزاء کرتے تھے اور ان کی ہنسی بنایا کرتے تھے۔
Top