Tafseer-e-Mazhari - Al-Muminoon : 118
وَ قُلْ رَّبِّ اغْفِرْ وَ ارْحَمْ وَ اَنْتَ خَیْرُ الرّٰحِمِیْنَ۠   ۧ
وَقُلْ : اور آپ کہیں رَّبِّ : اے میرے رب اغْفِرْ : بخش دے وَارْحَمْ : اور رحم فرما وَاَنْتَ : اور تو خَيْرُ الرّٰحِمِيْنَ : بہترین رحم کرنے والا ہے
اور خدا سے دعا کرو کہ میرے پروردگار مجھے بخش دے اور (مجھ پر) رحم کر اور تو سب سے بہتر رحم کرنے والا ہے
وقل رب اغفر وارحم وانت خیر الرحمین۔ اور آپ کہا کریں اے میرے رب (میری خطائیں) معاف کر دے اور (میرے حال پر) رحم فرما تو سب سے بڑھ کر رحم کرنے والا ہے۔ اِغْفِرْاور اِرْحَمْکا مفعول محذوف ہے تاکہ ہر طرح کی مضرتوں کو دفع کرنے اور ہر قسم کی فائدہ مند چیزوں کے حصول میں عموم پیدا ہوجائے یعنی دعا عام ہوجائے۔ یعنی اے اللہ تو میری تمام خطاؤں کو معاف فرما دے (خطاؤں کی معافی کا نتیجہ یہ ہوگا کہ ہر تکلیف دہ ضرر رساں چیز سے حفاظت ہوجائے گی) اور مجھ پر رحم فرما (ہر طرح کے رحم کرنے کا نتیجہ یہ ہوگا کہ اللہ ہر فائدہ بخش چیز عنایت فرما دے گا۔ مغفرت کا لازمی نتیجہ دفع مضرت ہے اور رحمت کا لازمی نتیجہ حصول منفعت ) ۔ بغوی نے لکھا ہے کہ حنش نے بیان کیا کہ ایک مجنون کو حضرت ابن مسعود ؓ کے پاس لایا گیا آپ نے اس کے دونوں کانوں میں آیت اَفَحَسِبْتُمْ اَنَّمَا خَلَقْنٰکُمْ ۔۔ آخر تک پڑھ کر دم کردی اللہ نے اس کو اچھا کردیا۔ رسول اللہ ﷺ نے ابن مسعود ؓ سے فرمایا تم نے اس کے کانوں میں کیا دم کیا۔ حضرت ابن مسعود نے واقعہ عرض کردیا ‘ حضور ﷺ نے فرمایا قسم ہے اس کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے کہ اگر کوئی شخص اس کو پڑھ کر پہاڑ پر دم کر دے تو پہاڑ اپنی جگہ سے ٹل جائے۔ الحمدللہ 15 ماہ صفر 1204 ھ ؁ کو سورة المؤمنون کی تفسیر ختم ہوئی۔ اللہ کا شکر ہے کہ 28 رمضان 1379 ھ ؁ کو صبح کے وقت ترجمہ پورا ہوا۔
Top