Tafseer-e-Mazhari - Al-Muminoon : 15
ثُمَّ اِنَّكُمْ بَعْدَ ذٰلِكَ لَمَیِّتُوْنَؕ
ثُمَّ : پھر اِنَّكُمْ : بیشک تم بَعْدَ ذٰلِكَ : اس کے بعد لَمَيِّتُوْنَ : ضرور مرنے والے
پھر اس کے بعد تم مرجاتے ہو
ثم انکم بعد ذلک لمیتون۔ پھر تم بعد اس (قصۂ عجیبہ) کے ضرور ہی مرنے والے ہو۔ یعنی گزشتہ تمام مراحل زندگی طے کرنے کے بعد جب تمہاری زندگی کے خاتمہ کا وقت آجائے گا تو مرجاؤ گے۔ مطلب یہ کہ لامحالہ تم کو موت کی طرف جانا ہے سب موت کی جانب جا رہے ہو۔ میّت اور مائت وہ شخص جو مرنے والا ہو ابھی مرا نہ ہو اور میت وہ شخص جو مرچکا ہو اسی لئے اس جگہ میتونتخفیف کے ساتھ پڑھنا درست نہیں ہے جیسے اِنَّکَ مَیِّتٌ وَاِنَّہُمْ مَیِّتُوْنَمیں تخفیف و تشدید جائز نہیں (کذا ذکر البغوی) صاحب قاموس نے لکھا ہے مات یموت (نصر) یمات (فتح) یمیّت (ضرب) مَیِّتٌاور میّت دونوں طرح سے حیٌّکی ضد ہے۔ مات کا معنی سو گیا اور سکون پایا بھی ہے یا یوں کہا جائے کہ میت بالتخفیف وہ شخص جو مرچکا ہو اور میّت و مائت وہ شخص جو ابھی مرا نہ ہو (آئندہ مرنے والا ہو) ۔
Top