Tafseer-e-Mazhari - Al-Muminoon : 3
وَ الَّذِیْنَ هُمْ عَنِ اللَّغْوِ مُعْرِضُوْنَۙ
وَالَّذِيْنَ : اور وہ جو هُمْ : وہ عَنِ اللَّغْوِ : لغو (بیہودی باتوں) سے مُعْرِضُوْنَ : منہ پھیرنے والے
اور جو بیہودہ باتوں سے منہ موڑے رہتے ہیں
والذین ہم عن اللغو معرضون۔ اور جو لغو باتوں سے (قولی ہوں یا فعلی) اعراض کرنے والے ہیں۔ عطاء نے حضرت ابن عباس ؓ : کا قول نقل کیا کہ لغو سے مراد شرک ہے حسن نے کہا گناہ اور نافرمانیاں مراد ہیں۔ میں کہتا ہوں آخرت میں کام نہ آنے والے امور مراد لینا بہتر ہے خواہ وہ امور قول سے تعلق رکھتے ہوں یا عمل سے۔ مُعْرِضُوْنَسے اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ شرک اور معاصی اور آخرت میں ضرر پہنچانے والے امور کے ارتکاب کا تو ذکر ہی کیا ہے وہ تو بیکار اور غیر مفید باتوں سے بھی الگ رہتے ہیں اور پرہیز کرتے ہیں۔ بعض نے کہا لغو سے اعراض کرنے کا یہ مطلب ہے کہ کافروں کے مقابلہ میں وہ گالیاں نہیں دیتے اور سب و شتم نہیں کرتے۔ دوسری آیت میں اللہ نے خود فرمایا ہے وَاِذَا امَرُّوْا ابِاللَّغِوْ مَرُّوْا کِرَامًا۔ مطلب یہ ہے کہ جب وہ بری بات سنتے ہیں تو خود اس کے اندر گھس نہیں پڑتے بلکہ۔
Top