Tafseer-e-Mazhari - Al-Muminoon : 35
اَیَعِدُكُمْ اَنَّكُمْ اِذَا مِتُّمْ وَ كُنْتُمْ تُرَابًا وَّ عِظَامًا اَنَّكُمْ مُّخْرَجُوْنَ۪ۙ
اَيَعِدُكُمْ : کیا وہ وعدہ دیتا ہے تمہیں اَنَّكُمْ : کہ تم اِذَا : جب مِتُّمْ : مرگئے وَكُنْتُمْ : اور تم ہوگئے تُرَابًا : مٹی وَّعِظَامًا : اور ہڈیاں اَنَّكُمْ : تو تم مُّخْرَجُوْنَ : نکالے جاؤگے
کیا یہ تم سے یہ کہتا ہے کہ جب تم مر جاؤ گے اور مٹی ہو جاؤ گے اور استخوان (کے سوا کچھ نہ رہے گا) تو تم (زمین سے) نکالے جاؤ گے
ایعدکم انکم اذا متم وکنتم ترابا وعظاما انکم مخرجون کیا یہ شخص تم سے کہتا ہے کہ جب تم مرجاؤ گے اور خاک اور (بلا گوشت پوست کی خالی) ہڈیاں ہوجاؤ گے۔ تو (دوبارہ زندہ کر کے زمین سے) نکالے جاؤ گے۔ اَیَعِدُکُمْ میں استفہام انکاری ہے یعنی ایسا نہیں کہنا چاہئے یا سوال تقریری ہے یعنی یہ ضرور ایسا کہہ رہا ہے۔ نبوت پر جو انہوں نے طنز کیا تھا اس کو پختہ کرنے کے لئے کافروں نے یہ بات کہی (کہ یہ نبی کیسے ہوسکتا ہے یہ دوبارہ زندہ کر کے اٹھائے جانے کا احمقانہ عقیدہ رکھتا ہے) یا مقولۂ سابقہ کی علت ہے پہلے انہوں نے کہا کہ اپنے جیسے آدمی کی اگر اطاعت کرو گے تو گھاٹا پاؤ گے اس کا ثبوت یہ پیش کیا کہ یہ وقوع قیامت کا قائل ہے (دنیا کے سارے عیش میں خلل ڈالنا چاہتا ہے اس کی بات کو ماننے سے اس زندگی میں خسارہ ہی اٹھانا پڑے گا) ۔
Top