Tafseer-e-Mazhari - Al-Muminoon : 83
لَقَدْ وُعِدْنَا نَحْنُ وَ اٰبَآؤُنَا هٰذَا مِنْ قَبْلُ اِنْ هٰذَاۤ اِلَّاۤ اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَ
لَقَدْ وُعِدْنَا : البتہ ہم سے وعدہ کیا گیا نَحْنُ : ہم وَاٰبَآؤُنَا : اور ہمارے باپ دادا ھٰذَا : یہ مِنْ قَبْلُ : اس سے قبل اِنْ ھٰذَآ : یہ نہیں اِلَّآ : مگر (صرف) اَسَاطِيْرُ : کہانیاں الْاَوَّلِيْنَ : پہلے لوگ
یہ وعدہ ہم سے اور ہم سے پہلے ہمارے باپ دادا سے بھی ہوتا چلا آیا ہے (اجی) یہ تو صرف اگلے لوگوں کی کہانیاں ہیں
لقد وعدنا نحن وابآونا ہذا من قبل ان ہذا الا اساطیر الاولین۔ اس کا تو ہم سے اور ہم سے پہلے ہمارے بڑوں سے وعدہ ہوتا چلا آیا ہے یہ کچھ نہیں محض بےسند باتیں ہیں جو اگلوں سے منقول ہوتی چلی آئی ہیں۔ یعنی مرنے کے بعد جی اٹھنے کا وعدہ تو ہمارے بڑوں سے وہ لوگ کرتے ہی چلے آئے ہیں جنہوں نے اللہ کے پیغمبر ہونے کا دعویٰ کیا تھا۔ ہٰذَا یعنی مرنے کے بعد دوبارہ جی اٹھنا۔ اس کا وعدہ تمام مدعیان نبوت کرتے چلے آئے ہیں۔ مِنْ قَبْلُاب سے پہلے۔ لیکن اتنی طویل مدت گزرنے کے بعد بھی اب تک وہ وعدہ پورا نہیں ہوا۔ اِنْ ہٰذَانہیں ہے یہ وعدۂ قیامت۔ اِلاَّ اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَمگر اگلے لوگوں کی جھوٹی بنائی باتیں۔ سطر ‘ قطار ‘ کتاب کی۔ سطر بوئے ہوئے درختوں کی لائن کھڑے ہوئے آدمیوں کی لائن ‘ یہاں اوّل معنی مراد ہے۔ سَطَرُ فُلاَنٌفلاں شخص نے لکھا سطر کی جمع اسطر اور سطور اور اسطار آتی ہے اور اساطیر اسطار کی جمع ہے ‘ مطلب یہ ہے کہ یہ بات خدا کی طرف سے نازل شدہ نہیں ہے بلکہ اگلے لوگوں کی بےبنیاد جھوٹ لکھی ہوئی چلی آتی ہے۔ مبرد نے کہا اساطیر اسطورہ کی جمع ہے جیسے اراجیح ارجوحہ کی اور احادیث احدوثہ کی اور اعاجیب اعجوبہ کی اور اضاحیک اضحوکہ کی اس کا استعمال تفریح اور دل بہلانے کے لئے لکھی ہوئی جھوٹی تحریروں کے لئے ہوتا ہے اسی لئے اساطیر کا تفسیری ترجمہ اکاذیب کیا گیا ہے۔
Top