Tafseer-e-Mazhari - Al-Muminoon : 92
عٰلِمِ الْغَیْبِ وَ الشَّهَادَةِ فَتَعٰلٰى عَمَّا یُشْرِكُوْنَ۠   ۧ
عٰلِمِ الْغَيْبِ : جاننے والا پوشیدہ وَالشَّهَادَةِ : اور آشکارا فَتَعٰلٰى : پس برتر عَمَّا : اس سے جو يُشْرِكُوْنَ : وہ شریک سمجھتے ہیں
وہ پوشیدہ اور ظاہر کو جانتا ہے اور (مشرک) جو اس کے ساتھ شریک کرتے ہیں اس کی شان اس سے اونچی ہے
علم الغیب والشہادۃ فتعلی عما یشرکون۔ جاننے والا ہے ہر پوشیدہ اور ظاہر کا۔ غرض ان کی شرک آفرینیوں سے ‘ اللہ بزرگ و برتر ہے۔ یعنی اولاد اور شریک سے اللہ پاک ہے جس کی دلیل اوپر ذکر کردی گئی۔ عَالِمُ الْغَیْبِ وَالشَّہَادۃِ نفی شریک کی دوسری دلیل ہے (اگر کسی موصوف کی کوئی خاص صفت بیان کی جائے تو وہ صفت ہی کسی حکم کی علت ہوتی ہے جیسے اَحْسِنْ بِزَیْدٍ صَدیْقِکَ الْقَدِیْمِاپنے پرانے دوست زید کے ساتھ بھلائی کر۔ بھلائی کرنے کے حکم کی علت زید کی پرانی دوستی ہے۔ پس اللہ کا شریک نہ ہونے کی ایک دلیل یہ ہے کہ وہی پوشیدہ اور ظاہر کا عالم ہے یعنی عالم کل ہے اس کے سوا کوئی ہمہ گیر علم نہیں رکھتا) یہ بات مشرک بھی مانتے تھے کہ علمی ہمہ گیری میں اللہ منفرد ہے۔
Top