Siraj-ul-Bayan - Al-Muminoon : 95
وَ اِنَّا عَلٰۤى اَنْ نُّرِیَكَ مَا نَعِدُهُمْ لَقٰدِرُوْنَ
وَاِنَّا : اور بیشک ہم عَلٰٓي : پر اَنْ نُّرِيَكَ : کہ ہم تمہیں دکھا دیں مَا نَعِدُهُمْ : جو ہم وعدہ کر رہے ہیں ان سے لَقٰدِرُوْنَ : البتہ قادر ہیں
اور جو وعدہ ہم ان سے کر رہے ہیں ہم تم کو دکھا کر ان پر نازل کرنے پر قادر ہیں
وانا علی ان نریک ما نعدہم لقدرون۔ اور ہم اس بات پر قادر ہیں کہ جس (عقراب) کا وعدہ ہم ان سے کر رہے ہیں وہ آپ کو دکھا دیں۔ لیکن بیخ بن سے اکھاڑ دینے والے غارت کن عذاب ہم ان پر نازل نہیں کرتے کیونکہ آپ ان میں موجود ہیں اور ہم جانتے ہیں کہ ان میں سے کچھ لوگ ایمان لے آئیں گے اور بعض کی نسل میں مؤمن پیدا ہوں گے۔ اِنَّا عَلٰی اَنْ نُرِیَک۔۔ دوسرا جملۂ معترضہ ہے قیامت کا اور عذاب موعود کا وہ لوگ انکار کرتے تھے اور بطور استہزاء جلد نزول عذاب کے خواستگار تھے ان کے انکار اور عجلت طلبی کو رد کرنے کے لئے یہ جملہ ذکر فرمایا۔
Top