Tafseer-e-Mazhari - Al-Muminoon : 96
اِدْفَعْ بِالَّتِیْ هِیَ اَحْسَنُ السَّیِّئَةَ١ؕ نَحْنُ اَعْلَمُ بِمَا یَصِفُوْنَ
اِدْفَعْ : دفع کرو بِالَّتِيْ : اس سے جو هِىَ : وہ اَحْسَنُ : سب سے اچھی بھلائی السَّيِّئَةَ : برائی نَحْنُ : ہم اَعْلَمُ : خوب جانتے ہیں بِمَا : اس کو جو يَصِفُوْنَ : وہ بیان کرتے ہیں
اور بری بات کے جواب میں ایسی بات کہو جو نہایت اچھی ہو۔ اور یہ جو کچھ بیان کرتے ہیں ہمیں خوب معلوم ہے
ادفع بالتی ہی احسن السیءۃ آپ ان کی برائی کا دفعیہ ایسے برتاؤ (خصلت) سے کرو یا کیجئے جو بہت ہی اچھا اور نرم ہو۔ سب سے اچھی خصلت سے مراد ہے درگزر کرنا۔ رخ پھیرلینا ‘ صبر کرنا اور بھلائی کرنا۔ یعنی ان کی برائی کے مقابلے میں اپنی طرف سے ان کے ساتھ بھلائی کرو۔ اس تفسیر پر آیت میں کافروں کی ایذا رسانی پر صبر کا اور جنگ سے باز رہنے کا حکم دیا گیا ہے اور آیت جہاد سے اس آیت کا حکم منسوخ قرار دیا جائے گا۔ بعض کے نزدیک حسنہ سے کلمۂ توحید اور سیۂ سے کلمۂ شرک مراد ہے بعض کے خیال میں سیۂ برا کام (گناہ کا کام) ہے اور حسنہ سے مراد ہے برے کام سے بازداشت اور ممانعت۔ نحن اعلم بما یصفون۔ وہ جو کچھ بیان کرتے ہیں ہم اس سے بخوبی واقف ہیں۔ یعنی آپ کے متعلق کافر جو کچھ کہتے ہیں یا یہ مطلب ہے کہ آپ کے حالات کے خلاف بیان کرتے ہیں ہم اس سے بخوبی واقف ہیں اور سزا دینے پر قدرت بھی رکھتے ہیں ‘ اس لئے آپ خود انتقام کے درپے نہ ہوں اور سارے معاملے کو ہمارے سپرد کردیں۔ یہ جملہ گویا دفع السیۂ بالحسنہ کی علت ہے آپ بھلائی کریں اور برائی کے مقابلہ میں بھلائی سے کام لیں اس لئے کہ ہم آپ کا انتقام لے لیں گے۔ ہم ان کے بیان کو بھی خوب جانتے ہیں اور سزا دینے کی قدرت بھی رکھتے ہیں۔
Top