Tafseer-e-Mazhari - Al-Qasas : 49
قُلْ فَاْتُوْا بِكِتٰبٍ مِّنْ عِنْدِ اللّٰهِ هُوَ اَهْدٰى مِنْهُمَاۤ اَتَّبِعْهُ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ
قُلْ : فرما دیں فَاْتُوْا : پس لاؤ بِكِتٰبٍ : کوئی کتاب مِّنْ : سے عِنْدِ اللّٰهِ : اللہ کے پاس هُوَ : وہ اَهْدٰى : زیادہ ہدایت مِنْهُمَآ : ان دونوں سے اَتَّبِعْهُ : میں پیروی کروں اس کی اِنْ كُنْتُمْ : اگر تم ہو صٰدِقِيْنَ : سچے (جمع)
کہہ دو کہ اگر سچے ہو تو تم خدا کے پاس سے کوئی کتاب لے آؤ جو ان دونوں (کتابوں) سے بڑھ کر ہدایت کرنے والی ہو۔ تاکہ میں بھی اسی کی پیروی کروں
قل فاتوا بکتب من عند اللہ ھوا ھدی منھما اتبعہ ان کنتم صدیقین . (اے محمد ! ) آپ کہہ دیجئے کہ اگر تم سچے ہو (کہ محمد ﷺ و موسیٰ جادوگر ہیں اور ان کی پیش کردہ کتابیں جادو ہیں) تو اللہ کی طرف سے کوئی ایسی کتاب پیش کرو جو ان دونوں سے (یعنی محمد ﷺ و موسیٰ کی کتابوں سے) زیادہ ہدایت آفریں ہو کہ میں اس پر چلوں۔ اِنْ کُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ اس میں حرف شک (یعنی ان) اظہار شک کے لئے نہیں ہے بلکہ بطور استہزاء ذکر کیا گیا ہے اور اس سے مراد ہے صرف لاجواب بنا دینا اور الزام دینا۔
Top