Tafseer-e-Mazhari - Aal-i-Imraan : 76
بَلٰى مَنْ اَوْفٰى بِعَهْدِهٖ وَ اتَّقٰى فَاِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الْمُتَّقِیْنَ
بَلٰي : کیوں نہیں ؟ مَنْ : جو اَوْفٰى : پورا کرے بِعَهْدِهٖ : اپنا اقرار وَاتَّقٰى : اور پرہیزگار رہے فَاِنَّ : تو بیشک اللّٰهَ : اللہ يُحِبُّ : دوست رکھتا ہے الْمُتَّقِيْنَ : پرہیزگار (جمع)
ہاں جو شخص اپنے اقرار کو پورا کرے اور (خدا سے) ڈرے تو خدا ڈرنے والوں کو دوست رکھتا ہے
بَلٰي : یعنی جس طرح یہودی کہتے ہیں ایسا نہیں ہے بلکہ مؤمنین کے معاملہ میں بھی ان کی گرفت ہوگی یہ مطلب ہے کہ (کافروں کے) مال کے بچاؤ کی صرف دو صورتیں ہیں مسلمان ہوجانا یا مسلمانوں کا ذمی بن جانا (یعنی یہودی الٹا سمجھے ہیں کہ مسلمان کے مال کو اپنے لیے مباح جانتے ہیں حقیقت اس کے برعکس ہے ان کا مال مسلمانوں کے لیے مباح ہے ہر طرح سے لینا جائز ہے۔ بچاؤ کی صرف دو صورتیں ہیں مسلمان ہوجانا یا جزیہ دینا) حضرت ابو موسیٰ راوی ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا : مجھیلوگوں سے لڑنے کا اس وقت تک حکم دیا گیا ہے کہ وہ لا الٰہ الّا اللہ اور محمّد رسول اللہ کا اقرار کرلیں اور ٹھیک ٹھیک نماز پڑھیں اور زکوٰۃ ادا کریں اگر وہ ایسا کرلیں تو ان کی جانیں اور ان کے مال سوائے اسلامی حقوق کے ہر طرح مجھ سے محفوظ ہوجائیں گے اور (اندرونی) حساب فہمی اللہ کے ذمہ ہے (کہ انہوں نے یہ اقرار توحید و رسالت دل کے یقین کے ساتھ کیا ہے یا نفاق کے ساتھ) سلیمان بن برید نے حضرت برید ؓ کی روایت سے ایک طویل حدیث بیان کی ہے جس میں یہ (حکم) بھی مذکور ہے کہ اگر وہ یعنی کفار اسلام سے انکار کریں تو ان سے جزیہ طلب کرنا اگر دیدیں تو لے لینا اور (جنگ کو) ان سے روک دینا۔ (متفق علیہ) مَنْ اَوْفٰى بِعَهْدِهٖ : جس کسی نے بھی اپنا عہد پورا کیا یا جو بھی اپنا عہد پورا کرے۔ مَنْ شرطیہ ہے یا موصولہ اور عہد سے مراد ہے مالک مال سے واپسی امانت کا کیا ہوا وعدہ یا اللہ کا وہ حکم جو توریت میں اللہ نے دیا تھا کہ تمام انبیاء پر اور محمد ﷺ پر اور قرآن پر ایمان لانا اور امانت ادا کرتے رہنا۔ اوّل مطلب پر عَھْدِہٖ کی ضمیر مَنْ کی طرف راجع ہے اور دوسرے مطلب پر اللہ کی طرف۔ وَاتَّقٰى : اور کفر و خیانت سے بچتا رہا۔ تو اللہ اس سے محبت کرے گا۔ فَاِنَّ اللّٰهَ يُحِبُّ الْمُتَّقِيْنَ : کیونکہ اللہ تقویٰ والوں کو پسند کرتا ہے (اور ایسے لوگ تقویٰ والے ہیں) یُحبھم کی جگہ یُحِبُّ الْمتقِیْن کہنے میں اس بات پر تنبیہ ہے کہ تمام امور کا مدار تقویٰ پر ہے وفاء عہد اور تمام فرائض کی ادائیگی اور ممنوعات سے اجتناب تقویٰ ہی کی شاخیں ہیں۔ اسی عموم کی وجہ سے بجائے ضمیر کے المتقین کو ذکر کیا۔ بَلٰی بجائے خود ایک جملہ کا قائم مقام ہے اور اس جملہ کی تاکید من اوفیٰ بعھدہٖ ۔۔ پورا جملہ کر رہا ہے۔ بخاری و مسلم میں حضرت عبد اللہ بن عمرو ؓ کی روایت آئی ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا : چار (خصلتیں) ہیں جس کے اندر یہ چاروں ہوں گی وہ خالص (عملی) منافق ہوگا اور جس کے اندر ان میں سے کوئی ایک ہوگی وہ تاوقتیکہ اس کو ترک نہ کردے نفاق کی ایک خصلت اس میں رہے گی جب اس کے پاس امانت رکھی جائے تو خیانت کرے۔ بات کرے تو جھوٹی کرے وعدہ کرے تو خلاف ورزی کرے۔ کسی سے جھگڑا ہو تو بیہودہ بکے۔ صحیحین میں حضرت ابوہریرہ کی روایت سے آیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : منافق کی تین نشانیاں ہیں جب بات کرے تو جھوٹی کرے وعدہ کرے تو خلاف ورزی کرے جب اس کے پاس امانت رکھی جائے تو خیانت کرے۔ مسلم کی روایت میں حدیث کے اتنے الفاظ زائد ہیں کہ خواہ وہ روزے رکھتا ہو اور نماز پڑھتا ہو اور مسلمان ہونے کا دعویدار ہو۔
Top