Tafseer-e-Mazhari - Ash-Shura : 10
وَ مَا اخْتَلَفْتُمْ فِیْهِ مِنْ شَیْءٍ فَحُكْمُهٗۤ اِلَى اللّٰهِ١ؕ ذٰلِكُمُ اللّٰهُ رَبِّیْ عَلَیْهِ تَوَكَّلْتُ١ۖۗ وَ اِلَیْهِ اُنِیْبُ
وَمَا : اور جو بھی اخْتَلَفْتُمْ : اختلاف کیا تم نے فِيْهِ : اس میں مِنْ شَيْءٍ : کسی چیز میں سے فَحُكْمُهٗٓ : تو اس کا فیصلہ کرنا اِلَى اللّٰهِ : طرف اللہ کے ہے ذٰلِكُمُ اللّٰهُ : یہ ہے اللہ رَبِّيْ : رب میرا عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ : اسی پر میں نے بھروسہ کیا وَاِلَيْهِ : اور اسی کی طرف اُنِيْبُ : میں رجوع کرتا ہوں
اور تم جس بات میں اختلاف کرتے ہو اس کا فیصلہ خدا کی طرف (سے ہوگا) یہی خدا میرا پروردگار ہے میں اسی پر بھروسہ رکھتا ہوں۔ اور اسی کی طرف رجوع کرتا ہوں
وما اختلفتم فیہ من شیء فحکمہ الی اللہ اور جس جس بات میں تم (اہل حق سے) اختلاف کرتے ہو ‘ سو اس کا فیصلہ اللہ ہی کے سپرد ہے۔ یعنی اے لوگو ! امر دین میں تم جو اختلاف کرتے ہو ‘ اس کا فیصلہ اللہ کے سپرد ہے ‘ قیامت کے دن وہی حق پرستوں اور باطل پرستوں کو الگ الگ کر دے گا۔ بعض علماء نے آیت کا یہ مطلب بیان کیا کہ جن متشابہات (کے مطلب) میں تم اختلاف کرتے ہو اس کو محکمات کی طرف لوٹا دو (یعنی ایسا مطلب مت بیان کرو جو آیات محکمات کے خلاف ہو ‘ مترجم) ۔ ذلکم اللہ ربی علیہ توکلت والیہ انیب (اے محمد ﷺ ! آپ کہہ دیجئے :) یہی اللہ میرا رب ہے میں اسی پر توکل کرتا ہوں اور اسکی طرف رجوع کرتا ہوں۔ یعنی دشمنوں کی شرارتوں کو دفع کرنے میں اور تمام امور میں میں اسی پر اعتماد کرتا ہوں اور سخت مشکلات میں اسی کی طرف رجوع کرتا ہوں۔
Top