Tafseer-e-Mazhari - Ash-Shura : 17
اَللّٰهُ الَّذِیْۤ اَنْزَلَ الْكِتٰبَ بِالْحَقِّ وَ الْمِیْزَانَ١ؕ وَ مَا یُدْرِیْكَ لَعَلَّ السَّاعَةَ قَرِیْبٌ
اَللّٰهُ الَّذِيْٓ : اللہ وہ ذات ہے اَنْزَلَ الْكِتٰبَ بالْحَقِّ : جس نے نازل کی کتاب حق کے ساتھ وَالْمِيْزَانَ : اور میزان کو وَمَا يُدْرِيْكَ : اور کیا چیز بتائے تجھ کو لَعَلَّ السَّاعَةَ : شاید کہ قیامت قَرِيْبٌ : قریب ہی ہو
خدا ہی تو ہے جس نے سچائی کے ساتھ کتاب نازل فرمائی اور (عدل وانصاف کی) ترازو۔ اور تم کو کیا معلوم شاید قیامت قریب ہی آ پہنچی ہو
اللہ الذی انزل الکتب بالحق والمیزان اللہ ہی تو ہے جس نے یہ کتاب (یعنی قرآن ‘ ترجمہ مولانا تھانوی) اور انصاف کو نازل فرمایا۔ الْکِتٰبَ بالْحَقِّ یعنی اللہ ہی نے تو کتاب نازل کی جو برحق ہے ‘ یعنی باطل سے بہت دور ہے ‘ یا یہ مطلب ہے کہ عقائد حقہ اور صحیح احکام کی تعلیم دیتی ہے۔ الکتاب سے مراد جنس کتاب ہے۔ وَالْمِیْزَان قتادہ ‘ مجاہد اور مقاتل نے کہا : میزان سے مراد عدل ہے۔ میزان یعنی ترازو ‘ انصاف اور صحیح مساوات کا آلہ ہوتا ہے (اور عدل کا بھی معنی انصاف ہے) اسلئے عدل کو میزان کہا گیا۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا : اللہ نے پورا پورا تولنے کا حکم دیا اور تول میں کمی کرنے کی ممانعت فرمائی۔ بعض علماء کے نزدیک میزان سے مراد شریعت ہے ‘ شریعت سے حقوق کا صحیح توازن ہوتا اور انسانوں کے باہمی معاملات میں انصاف ہوتا ہے۔ ومایدریک لعل الساعۃ قریب۔ اور آپ کو (اس کی) کیا خبر عجب نہیں کہ قیامت قریب ہی ہو ؟
Top