Tafseer-e-Mazhari - Ash-Shura : 25
وَ هُوَ الَّذِیْ یَقْبَلُ التَّوْبَةَ عَنْ عِبَادِهٖ وَ یَعْفُوْا عَنِ السَّیِّاٰتِ وَ یَعْلَمُ مَا تَفْعَلُوْنَۙ
وَهُوَ الَّذِيْ : اور وہ اللہ وہ ذات ہے يَقْبَلُ : جو قبول کرتا ہے التَّوْبَةَ : توبہ کو عَنْ عِبَادِهٖ : اپنے بندوں سے وَيَعْفُوْا : اور درگزر کرتا ہے عَنِ السَّيِّاٰتِ : برائیوں سے وَيَعْلَمُ مَا : اور وہ جانتا ہے جو تَفْعَلُوْنَ : تم کرتے ہو
اور وہی تو ہے جو اپنے بندوں کی توبہ قبول کرتا اور (ان کے) قصور معاف فرماتا ہے اور جو تم کرتے ہو (سب) جانتا ہے
وھو الذی یقبل التوبۃ عن عبادہ ویعفو عن السیات ویعلم ما تفعلون اور وہ ایسا (رحیم) ہے کہ اپنے بندوں کی توبہ قبول فرماتا ہے اور تمام (گذشتہ) گناہ معاف کردیتا ہے اور جو کچھ تم کرتے ہو ‘ اس (سب) کو جانتا ہے۔ عَنْ عِبَادِہٖ حضرت ابن عباس نے فرمایا : یعنی اپنے اولیاء اور طاعت گذار بندوں کی توبہ قبول کرتا ہے۔ عرب کہتے ہیں : قبلت منہ الشیء میں نے اس سے وہ چیز لے لی اور قبلت عنہ الشیء میں نے وہ چیز اس سے الگ کردی۔ بعض علماء نے لکھا ہے کہ توبہ کے معنی ہیں دل سے معاصی کو ترک کرنے کا پکا ارادہ کرنا اور عملاً گناہ کو ترک کرنا اور دل سے طاعت کی پختہ نیت کرنا اور عملاً طاعت کرنا۔ سہل بن عبد اللہ نے کہا : توبہ سے مراد ہے برے احوال کو چھوڑ کر اچھے احوال کی طرف منتقل ہوجانا۔ بیضاوی نے لکھا ہے کہ حضرت علی نے فرمایا : گذشتہ گناہوں سے توبہ کرنے کے چھ معانی ہیں : (ا) فرائض کے ضائع کردینے پر پشیمانی۔ (2) فرائض کو دوبارہ ادا کرنا۔ (3) حقوق لوٹا کر دے دینا۔ (4) جس طرح نفس کو گناہوں میں گھلایا ہو ‘ اسی طرح نفس کو طاعت میں پگھلانا۔ (5) جیسے پہلے نفس کو گناہوں کی لذت چکھائی ہو ‘ اسی طرح نفس کو طاعت کی تلخی چکھانا۔ (6) جیسے پہلے ہنستا رہا تھا ‘ اسی طرح اب رونا۔ بغوی نے شرح السنۃ میں حضرت ابن مسعود کا قول نقل کیا ہے : ندامت ‘ توبہ ہے اور گناہ سے توبہ کرنے والا بےگناہ کی طرح ہوجاتا ہے۔ فصل : حارث بن سوید کا بیان ہے کہ میں حضرت عبد اللہ کی عیادت کرنے گیا ‘ حضرت عبد اللہ نے فرمایا : اگر کوئی شخص ہلاکت آفریں صحرا میں ہو اور اس کی اونٹنی بھی اس کے ساتھ ہو ‘ جس پر اس شخص کے کھانے پینے کا سامان ہو ‘ پھر یہ شخص ایک جگہ اتر کر سو جائے اور اونٹنی کسی طرف کو چلی جائے۔ جب یہ شخص بیدار ہو تو اونٹنی موجود نہ ہو۔ یہ شخص اونٹنی کی تلاش میں (دور دور) گھومتا پھرے ‘ یہاں تک کہ سخت پیاس لگنے لگے (مگر پانی نہ ملے) آخر وہ فیصلہ کرلے کہ اب مجھے اسی مقام پر جا کر مرجانا چاہئے جہاں اونٹنی تھی ‘ یہ سوچ کر وہ واپس آجائے اور (مرنے کیلئے) آنکھیں بند کرلے۔ کچھ دیر کے بعد جو آنکھیں کھلیں تو اس کو اپنے پاس ہی اونٹنی کھانے پانی سے لدی ہوئی مل جائے۔ ایسے آدمی کو جتنی خوشی ہوتی ہے ‘ اللہ کو اپنے بندہ کی توبہ سے اس سے زیادہ خوشی ہوتی ہے ‘ رواہ البغوی۔ مسلم نے حضرت انس بن مالک کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : تم میں سے اگر کوئی ویران بیابان میں ہو اور اس کی اونٹنی بھی ساتھ ہو ‘ جس پر اس آدمی کا کھانا پانی لدا ہو ‘ پھر اونٹنی گم ہوجائے (یعنی یہ شخص کہیں اتر کر سو جائے اور اونٹنی کسی طرف چلی جائے اور ہرچند تلاش کرے مگر اونٹنی نہ ملے) آخر ناامید ہو کر کسی درخت کے سایہ میں جا کر لیٹ رہے اور (جب آنکھ کھلے تو) اونٹنی کو اپنے پاس کھڑا پائے ‘ اونٹنی کو دیکھتے ہی اس کی مہار پکڑ لے اور شدت مسرت سے غلطی سے بول اٹھے : اے اللہ ! تو میرا بندہ ہے اور میں تیرا رب ہوں (یعنی مسرت سے اتنا مغلوب ہوجائے کہ اس کو ہوش ہی نہ رہے کہ میں کیا کہہ رہا ہوں) یہ شخض جتنا اونٹنی کے ملنے سے خوش ہوگا ‘ اللہ اپنے بندہ کی توبہ سے اس سے زیادہ خوش ہوتا ہے۔ مسلم نے حضرت ابوہریرہ کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : بندہ جب (گناہ کا) اقرار کرتا ہے ‘ پھر توبہ کرلیتا ہے تو اللہ اس کی توبہ قبول فرما لیتا ہے۔ یہ بھی مسلم نے حضرت ابوہریرہ کی روایت سے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : مغرب کی جانب سے سورج برآمد ہونے سے پہلے جو توبہ کرے گا ‘ اللہ اس کی توبہ قبول فرما لے گا۔ ابن ماجہ اور بیہقی نے حضرت ابن مسعود کی روایت سے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : گناہ سے توبہ کرلینے والا بےگناہ کی طرح ہوجاتا ہے۔ وَیَغْفُوْ عَنِ السَّیِّاٰتِ یعنی صغیرہ اور کبیرہ گناہ سب معاف کردیتا ہے ‘ خواہ گناہگار نے توبہ کی ہو یا نہ کی ہو ‘ اگر اللہ چاہتا ہے تو معاف فرما دیتا ہے۔ شیخین نے صحیحین میں حضرت ابوہریرہ کی روایت سے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ایک آدمی تھا جس نے کبھی کوئی اچھا کام نہیں کیا تھا۔ جب وہ مرنے لگا تو اس نے گھر والوں کو وصیت کردی کہ جب میں مرجاؤں تو مجھے جلا (کر خاکستر کر) دینا ‘ پھر آدمی خاک خشکی میں اور آدھی دریا میں اڑا دینا ‘ کیونکہ خدا کی قسم ! اگر اللہ نے (مجھ پر ( قابو پا لیا تو وہ عذاب دے گا کہ کسی آدمی کو ایسا عذاب نہیں دے گا۔ غرض جب وہ مرگیا تو گھر والوں نے وہی کیا جیسا اس نے کہا تھا۔ اسکے بعد اللہ نے سمندر کو حکم دیا ‘ سمندر نے وہ خاک جمع کردی جو اس کے اندر تھی اور خشکی نے بھی حسب الحکم جو راکھ اس میں تھی ‘ وہ سمیٹ کر یکجا کردی ‘ پھر اللہ نے اس سے فرمایا : تو نے ایسا کیوں کیا تھا ؟ اس شخص نے عرض کیا : اے میرے رب ! تیرے خوف سے ایسا کیا تھا ‘ تو خوب واقف ہے۔ اللہ نے اس کو بخش دیا۔ حضرت ابو درداء کا بیان ہے کہ رسول اللہ ﷺ منبر پر تشریف فرما تھے اور میں نے خود سنا ‘ آپ فرما رہے تھے : ولمن خاف مقام ربہ جنّتٰن (جو شخص اپنے رب کے سامنے کھڑا ہونے سے ڈرتا ہے اس کیلئے دو جنتیں ہوں گی) میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ﷺ ! خواہ اس نے زنا کیا ہو ‘ خواہ اس نے چوری کی ہو ؟ حضور ﷺ نے دوبارہ بھی یہی فرمایا : ولمن خاف مقام ربہ جنّتٰن۔ میں نے دوبارہ یہی عرض کیا : یا رسول اللہ ﷺ ! خواہ اس نے زنا کیا ہو ‘ خواہ اس نے چوری کی ہو ؟ حضور ﷺ نے پھر تیسری بار بھی ولمن خاف مقام ربہ جنّتٰن فرمایا۔ میں نے بھی تیسری بار یہی کہا : یا رسول اللہ ﷺ ! خواہ اس نے زنا کیا ہو ‘ خواہ اس نے چوری کی ہو ؟ فرمایا : ابو درداء ناک مٹی میں رگڑے (تب بھی اللہ کے سامنے کھڑا ہونے سے ڈرنے والوں کیلئے دو جنتیں ہوں گی) رواہ احمد۔ ویعلم ما تفعلون اس میں خطاب مشرکوں کو ہے۔
Top