Tafseer-e-Mazhari - Ash-Shura : 9
اَمِ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِهٖۤ اَوْلِیَآءَ١ۚ فَاللّٰهُ هُوَ الْوَلِیُّ وَ هُوَ یُحْیِ الْمَوْتٰى١٘ وَ هُوَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ۠   ۧ
اَمِ : یا اتَّخَذُوْا : انہوں نے بنا رکھا ہے مِنْ دُوْنِهٖٓ : اس کے سوا اَوْلِيَآءَ : کچھ سرپرست فَاللّٰهُ : پس اللہ تعالیٰ هُوَ الْوَلِيُّ : وہی سرپرست ہے وَهُوَ : اور وہ يُحْيِ : زندہ کرے گا الْمَوْتٰى : مردوں کو وَهُوَ : اور وہ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ : ہر چیز پر قَدِيْرٌ : قدرت والا ہے
کیا انہوں نے اس کے سوا کارساز بنائے ہیں؟ کارساز تو خدا ہی ہے اور وہی مردوں کو زندہ کرے گا اور وہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے
ام اتخذوا من دونہ اولیاء فا اللہ ھو الولی وھو یحی الموتی وھو علی کل شیء قدیر کیا ان لوگوں نے اللہ کے سوا دوسرے کارساز قرار دے رکھے ہیں ؟ کارساز تو اللہ ہی ہے ‘ وہی مردوں کو زندہ کرے گا اور وہی ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔ اَمِ اتَّخَذُوْا۔ اَمْ (منقطعہ) بمعنی بَلْ ہے اور ہمزہ انکاری ہے ‘ یعنی کافروں نے اللہ کو حامی اور کارساز نہیں قرار دیا بلکہ اسکے سوا دوسروں کو (یعنی بتوں اور شیطانوں وغیرہ کو) کارساز قرار دیا اور ایسا کرنا کسی طرح صحیح نہ تھا ‘ یا یہ معنی ہے کہ جن کارساز ہے وہ ان کے حامی نہیں ہوں گے ‘ کارساز تو اللہ ہی ہے ‘ وہی اس بات کا مستحق ہے کہ اس کو کارساز قرار دیا جائے ‘ وہی ہر شخص کو اس کے عمل کا بدلہ دینے کیلئے مردوں کو زندہ کرے گا۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا : اللہ آپ کا بھی ولی ‘ یعنی مددگار ہے اور ان لوگوں کا بھی جو آپ کے پیرو ہیں۔
Top